1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. عبادات
  3. صلاة (نماز)

اگر ظہر كی چار سنتیں چھوٹ جائیں تو كیا اسے بعد میں ادا كرنا ہوگا؟

سوال

اگر ظہر کی چار رکعت سنت چھوٹ جائے تو فرض نماز کے بعد اسے ادا کرنا ہوگا کیا؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:658-528/sn=7/1440
 جی ہاں!اگر اتفاقا کسی دن ظہر کی سنتیں چھوٹ جائیں تو فرض اور (دو سنتوں) کے بعد وقت کے اندر اندر ادا کرنی ہوگی۔
ففی الدر المختار مع رد المحتار: (بخلاف سنة الظہر) وکذا الجمعة (فإنہ) إن خاف فوت رکعة (یترکہا) ویقتدی (ثم یأتی بہا) علی أنہا سنة (فی وقتہ) أی الظہر (قبل شفعہ) عند محمد، وبہ یفتی جوہرة. وأما ما قبل العشاء فمندوب لا یقضی أصلا... قولہ وبہ یفتی) أقول: وعلیہ المتون ؛ لکن رجح فی الفتح تقدیم الرکعتین. قال فی الإمداد: وفی فتاوی العتابی أنہ المختار، وفی مبسوط شیخ الإسلام أنہ الأصح لحدیث عائشة أنہ - علیہ الصلاة والسلام - کان إذا فاتتہ الأربع قبل الظہر یصلیہن بعد الرکعتین ، وہو قول أبی حنیفة ، وکذا فی جامع قاضی خان اہ والحدیث قال الترمذی حسن غریب فتح (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 2/ 512،ط:زکریا)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :169238
تاریخ اجراء :Mar 31, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ