1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. دیگر معاملات

پگڑی پر لی ہوئی دكان آگے كسی كو پگڑی پر دینا؟

سوال

مفتی صاحب میرا سوال یہ تھا کہ میں نے ایک دکان پگڑی میں لی تھی 25سال پہلے اور جسے میں نے لی تھی اس نے بھی پگڑی ہی میں لی تھی پھر اس نے یہ ہمیں دیدی پگڑی میں کچھ زیادہ پیسہ لیکر اس وقت مالک دکان دار نے کچھ نہ کہا اور ہم کچھ کرایہ بھی اداء کرتے رہے اور سال بعد کرایہ بھرتا بھی رہا اور پھر ہمارا کاروبار بند ہوگیا لیکن ہم کرایہ اداء کرتے رہے پھر ہم نے یہ دکان آگے پگڑی پر دینے لگے تو مالک دکان کہتا ہے کہ دکان خالی کردیں اور ہمرے پیسہ بھی نہیں دے رہا اور اب کیس کردیا ہے کہ دکان خالی کرو اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا پگڑی میں دکان لینا جائز نہیں ہے ؟ اورکیا ہم اس کو آگے پگڑی میں نہیں دے سکتے ۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa : 765-739/M=08/1440
صورت مسئولہ میں جب مالک ، دوکان خالی کرنے کے لئے کہہ رہا ہے تو دوکان خالی کرکے مالک کے حوالہ کردیں، پگڑی دینے کا یہ مطلب نہیں کہ دوکان ، کرایہ دار کی ملکیت ہوگئی، اور جب مالک کی طرف سے اجازت نہ ہو تو دوسرے کو پگڑی پر دینا درست نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :169659
تاریخ اجراء :Apr 30, 2019

فتوی پرنٹ