1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. دیگر معاملات

آن لائن کیے جانے والے چند معاملات

سوال

بسم اللہ الرحمن الرحیم (۱)کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ بعض تجارتی میلوں میں سامان کی خریدی سے پہلے ہی میلے میں داخلہ کے لیے ایک رقم ادا کرنا پڑتا ہے ،اسی طرح بعض آن لائن (Online)خریداری کی ویب سائٹوں میں سامان خریدنے کے لیے یا خصوصی رعایت (مثلاًقیمت میں،سامان پہونچانے کے مصارف میں یا کسی آن لائن لگنے والی سیل جلد خریدی کا موقعہ ملنے کی رعایت )حاصل کرنے کے لیے قیمةً اندراج (Registration)کرانا ہوتا ہے ، شرعی اعتبارسے اس رقم کی ادائیگی اور اس طرح کا معاملہ درست ہے یا نہیں؟
(۲) بعض ویب سائٹیں اشتہاری (Advertisement) ویڈیو دیکھنے پر کچھ معاوضہ دیتی ہیں مثلاً کوئی آن لائن خدمت (Service) با قیمت ملتی ہے لیکن ایڈ کا ویڈیو دیکھنے پر ،ویڈیو دیکھنے کے معاوضہ کے طور پر وہ سروس دی جائے یا ایڈ دیکھنے پر ایسا کوپن ملتا ہے جس کے ذریعہ بعض سامان کی خریداری میں متعینہ رعایت ملتی ہے ،یا بعض ویڈیو کے دیکھنے پرمتعینہ رقم ملتی ہے ،شرعاً اس طرح کا معاملہ کرنا اور اس طرح کا ویڈیو (جب کہ اس کا مشمول (Content) خلاف شرع مناظر پر مشتمل نہ ہو) دیکھنا درست ہے یا نہیں؟
(۳)ایک آن لائن کمپنی میں 11800/-روپیہ سال بھر کے رجسٹریشن کے لیے ادا کر نا ہوتا ہے جس کے بعد روزانہ(چھٹیوں کے دن چھوڑ کر) ہوٹلوں کے بیس 20عدد اشتہاری ویڈیو آپ کو دیکھنے کا موقعہ ملتا ہے جس میں ہر ویڈیو دیکھنے کے عوض میں پانچ روپیہ اکاونٹ میں جمع ہوتے ہیں نیز اس رجسٹریشن کی وجہ سے آپ سال بھر میں کبھی بھی ملک کے متعینہ تھری اسٹار ہوٹلوں میں سے کسی میں فیملی(میاں بیوی،دو بچوں) کے ساتھ تین دن کے لیے رک سکتے ہیں جس میں یومیہ ایک ہزار روپیہ کا کوپن آپ کو کھانے کے لیے فراہم کیا جائے گا۔اس سے زائد افراد،دن یا کھانے کا خرچ ہونے پر آپ کو بقیہ صرفہ اپنے پاس سے ادا کرنا ہوگا۔ نیز اگر آپ کے حوالے سے دو یا دو سے زائد افراد مزید اس کمپنی سے جڑتے ہیں تو آپ کو روزانہ پچاس اشتہاری ویڈیو دیکھنے کا موقعہ ملے گا یعنی روزانہ آپ کے اکاونٹ میں 250/- روپیہ آنا ممکن ہوں گے ۔ از راہ کرم وضاحت فرمائیں مندرجہ بالا معاملات میں شرعی احکام کیا ہیں،نیز نمبر ۳ پر ذکر کردہ کمپنی کے بارے میں مزید کچھ وضاحت مطلوب ہوتو اسے بھی تحریر فرمائیں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:458-70T/L=7/1440
(۱) جولوگ میلہ کے ذمہ دار ہوتے ہیں وہ چونکہ مختلف خدمات انجام دیتے ہیں ،نیز میلہ کا میدان بھی عام طور پر کرایہ پر لینا پڑتا ہے اور جو رقم میلہ میں داخل ہونے کے لیے لی جاتی ہے وہ دراصل میلہ سے انتفاع حاصل کرنے کا کرایہ ہے اس کے لینے اور دینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔اسی طرح آن لائن خریداری کے ویب سائٹوں میں جو رقم لی جاتی ہے وہ بھی دراصل ویب سائٹ استعمال کرنے کا کرایہ ہے اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے،بس شرط یہ ہے کہ عاقد کوئی تھرڈ پارٹی ہو۔
(۲) اشتہاری بورڈ دیکھنے پر جو معاوضہ ملتا ہے وہ دراصل انعام ہے جو ویڈیو دیکھنے پر دیا جاتا ہے ؛لہذا جس چیز کا اشتہار ہے اگر وہ کاروبار حلال ہے اور ویڈیو بھی کسی امرِ محظور پر مشتمل نہ ہو تو ویڈیو دیکھنے اور انعام لینے میں فی نفسہ کوئی حرج نہیں اوراگر ویڈیو غیرشرعی بات پر مشتمل ہو مثلاً عورتوں کی تصویریں وغیرہ ہوں تو دیکھنا ناجائز اور گناہ ہوگا ؛لیکن اشتہارات باتصویر ہیں یا تصویر سے خالی ہیں ، لیکن یہ اشتہارات مباح کاروبار یا اشیاء سے متعلق ہیں یا ناجائز کاروبار وبار وغیرہ سے متعلق ہیں پہلے اس کا پتہ نہیں چلتا بلکہ کلک کرنے کے بعد چلتا ہے ؛بلکہ عوام کو پتہ ہی نہی چلتا کہ کس چیز کا اشتہار ہے ،بہرحال اس طرح کے کام میں ناجائز امر کا ارتکاب نیزناجائز کاروبار وغیرہ کو فروغ دینے کا اندیشہ ہے ؛اس لیے اس سے احتراز کرنا چاہیے ۔
(۳)یہ تیسری صورت جائز نہیں ؛کیونکہ رجسٹریشن کے نام سے جو روپیہ لیاجاتا ہے وہ دراصل اس خدمت کا عوض ہے جو ویڈیو دیکھنے سے مشروط ہے ؛لہذا یہ اجارہ بالشرط میں داخل ہے جو ناجائز ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :167748
تاریخ اجراء :Mar 25, 2019

فتوی پرنٹ