1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. دیگر معاملات

اگر کرایہ دار بیچ میں خالی كردے تو كتنے دنوں كا كرایہ لینا چاہیے؟

سوال

ہمارے یہاں کرائے دار آتے ہیں تو ان سے ایڈوانس لیتے ہیں، اور جب مہینہ پورا ہوتاہے تو پھر اگلے مہینے کا ایڈوانس لیتے ہیں ، لیکن کچھ کرایہ دار بیچ میں خالی کردیتے ہیں ، پانچ، دس، پندرہ یا بیس دن میں تو ہمیں ان سے پورے مہینے کا پیسہ رکھ لینا چاہئے ؟یا جتنے دن رہتے ہیں انہی دنوں کا لے کر باقی واپس کردینا چاہئے؟ اس بارے میں رہنمائی فرمائیں ۔ مہربانی ہوگی۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa : 431-373/M=04/1440
اگر کرایہ دار بیچ میں خالی کردیں تو ضابطے کے مطابق جتنے دن رہے ہیں اتنے دنوں کا کرایہ رکھ کر بقیہ واپس کردینا چاہئے ہاں اگر کرایہ دار بقیہ پیسے واپس نہ لیں اور وہ بخوشی چھوڑدیں تو آپ کے لئے بقیہ رقم بھی حلال ہے اسے استعمال کرسکتے ہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :167358
تاریخ اجراء :Dec 24, 2018

فتوی پرنٹ