1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. دیگر معاملات

پارٹنر شپ کے متعلق

سوال

میں نے اور میرے بہنوئی نے ساتھ مل کر پارٹنر شپ میں دوکان شروع کی شروع میں بات یہ تھی کہ نفع اور نقصان کے برابر مالک رہیں گے پھر ۳مہینے بعد میرے بہنوئی الگ ہونے کی بات کرنے لگے جب دوکان بظاہر نقصان میں تھی لیکن ہم نے حساب کر کے نہیں دیکھا اور بہنوئی کے اسرار پر ان کا حساب تنخواہ کے حساب سے کر دیا اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنا درست ہے یا حساب کر کے نفع اور نقصان کے برابر حقدار رہیں گے ۔ برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa : 101-95 /M=2/1440
جب آپ دونوں (آپ اور آپ کے بہنوئی) کے درمیان معاملہ شرکت کا تھا تو بہنوئی کا معاملہ تنخواہ کے حساب سے کس طرح کردیا؟ نفع و نقصان کے حساب سے معاملہ صاف کرنا چاہئے تھا بہرحال جب آپ نے خود حساب کیا ہے اور بہنوئی کاجتنا بنتا تھا ان کو دے کر معاملہ ختم کرلیا تو معاملہ ختم ہوگیا۔ اگر غلطی سے زائد رقم ان کے پاس چلی گئی ہو تو آپ بہنوئی سے اس کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :165640
تاریخ اجراء :Oct 18, 2018

فتوی پرنٹ