1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. دیگر معاملات

ہیوی ڈپازٹ كا حكم

سوال

اگر میں مکان مالک کو 5لاکھ روپئے دے کر اس کے مکان میں کرایہ پر رہنے لگوں جس پر وہ کوئی کرایہ نہیں لیں گے اور جب میں سال کے آخر میں ان کا گھر خالی کردوں گاتو وہ مجھے میری پوری رقم واپس کردیں گے تو کیا معاملہ جائز ہوگا یایہ سود کے دائرے میں آئے گا؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:1242-898/SN=12/1439
مذکور فی السوال معاملہ شرعاً جائز نہیں ہے، یہ ”قرض“ سے انتفاع کی شکل ہے، جسے حدیث میں ”ربا“ (سود) قرار دیا گیا ہے۔ کل قرض جرّ منفعة فہو ربا (مصنف بن ابی شیبہ)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :163702
تاریخ اجراء :Aug 16, 2018

فتوی پرنٹ