1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. دیگر معاملات

بائع پلاٹ پر قبضہ نہیں دے سکا تو اب مشتری کیا کرے؟

سوال

آپ کی خدمت میں درجہ ذیل مسئلہ پیش ہے ۔ ساری آدآئیگیاں وسط 2007 سے لیکر وسط 2010 تک کی ہیں۔ زید کا ایک کاروباری ادارہ ہے ۔ جو کہ بہت ہی معتبر اور امانت دار تصور کیا جاتا تھا۔ کیونکہ زید کی طرف سے بڑے تواتر کے ساتھ اس نوعیت اور مضمون کے اشتہارات اور پمفلٹ شائع ہوتے رہتے تھے اور شاید اب بھی ہوتے ہوں۔ یہ ادارہ اقساط کی سہولت کے ساتھ، اپنی ہی آباد کی ہوئی رہائشی سکیموں میں، پلاٹ فراہم کرتا تھا۔ بکر نے 2007 میں ان کی رھائیشی بستی میں ایک پلاٹ خریدا۔ اس وقت 10 مرلہ پلاٹ کی قیمت 15 لاکھ روپے طے ہوئی۔ ہر قسط کی ترسیل ( سعودی عرب یا فارن کرنسی ڈالر اکاونٹ ) سعودی ریال یا امریکی ڈالر کے بدلہ میں پاکستانی روپے میں ہوتی رہی ۔ کیونکہ بکر سعودی عرب میں کام کرتا تھا۔ ۔ جب تمام اقساط (مجموعی رقم 15 لاکھ روپے = 75000 سعودی ریال یا 20000 امریکی ڈالر ) ادا کر دیں۔ تو زید کے ادارہ نے 2010 میں بکر کو ایک 10 مرلہ کا پلاٹ الاٹ کر کے الاٹمنٹ کا خط جاری کردیا۔ بکر نے کبھی بھی موقع پر جا کر رھائیشی سکیم دیکھی اور نہ پلاٹ ۔ 2016 کے اوائل میں بکر کو اپنے ذرائع سے معلوم ہوا کہ مذکورہ پلاٹ پر کسی اور شخص نے قبضہ کر لیا ہے ۔ گو زید کے ادارہ کو اس قبضہ کا علم تھا لیکن انہوں کبھی بھی بکر کو اطلاع نہیں دی۔ 2016 میں بکر نے زید کے ادارہ میں جا کر اس صورت حال کی اطلاع دی تو ادارہ نے اس مسئلہ کے حل کی یقین کرائی۔ بکر اس کے بعد مختلف ذرائع ( فیس بک پیغام ، فون کال، نوٹس ایپ پیغام وغیرہ وغیرہ) سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتا رھا۔ مگر زید نے کبھی جواب دیا اور نہ ہی کبھی کال اٹینڈ کی۔اپریل 2018 میں بکر نے زید کے دفتر میں جاکر زید سے ملاقات کی۔ زید نے پلاٹ کے بارے افسوس کا اظہار کیا اور بتایا کہ قبضہ پارٹی بڑی بدمعاش ہے ۔اور پہلے بھی ہمارا ایک بندہ قتل ہو چکا ہے ۔ ہم اپ کو آپکی ادا کردہ رقم واپس کر دیتے ہیں ۔ اگر وہ پلاٹ ہوتا تو اس کی قیمت (اس وقت کم از کم 40 لاکھ ہوتی ۔ یہ میرا اندازہ ہے غلط ہو سکتا ہے)۔ محترم! آپ یہ فرمائیں کہ بکر کتنی رقم کا حق دار ہے ۔ کیونکہ اب 15 لاکھ میں 5 مرلہ زمین بھی نہیں خریدی جاسکتی۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:1176-1140/N=1/1440
صورت مسئولہ میں زید نے بکر کو جو پلاٹ الاٹ کیا، اگر وہ پلاٹ پہلے سے نزاعی تھا ، یعنی: اس پلاٹ کے سلسلہ میں پہلے سے زید اور موجودہ قابض کے درمیان نزاع چلا آرہا تھا تو ایسی صورت میں زید پر ضروری ہے کہ وہ بکر کوحسب معاملہ اسی جیسا کوئی دوسرا ۱۵/ مرلہ کا پلاٹ الاٹ کرے۔ اس کے بعد بکر اس پلاٹ کو فروخت کردے یا اس میں اپنا مکا ن وغیرہ بناکر رہائش اختیار کرے یا دکان وغیرہ کرے۔ اور اگر بکر زید سے دوسرا پلاٹ نہیں لینا چاہتا، صرف پیسے لینا چاہتا ہے تو وہ بکر سے صرف اپنا (ادا کردہ) پیسہ واپس لے سکتا ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں لے سکتا اگرچہ آج کل ۱۵/ لاکھ میں پانچ مرلہ کوئی زمین بھی نہ مل سکتی ؛ کیوں کہ یہ بیع کو فسخ کرنے کی شکل ہے، جس میں خریدار صرف اپنے پیسے واپس لینے کا حق رکھتا ہے خواہ کتنی مدت گذرجائے ۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :163255
تاریخ اجراء :Sep 26, 2018

فتوی پرنٹ