1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. دیگر معاملات

مدرسہ میں طلبہ سے لیٹ فیس وصول کرنا

سوال

سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دیں شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ مدرسے میں بچے مقررہ وقت پر نہیں آتے تو ان سے تاخیر سے آنے کی وجہ سے مدرسے کے ذمہ دار لیٹ فیس بطور جرمانہ اصول کرتے ہیں یہ کہاں تک درست ہے اور کبہی جرمانہ کے نام پر اصول کرنے کے بجائے خوراکی کے نام پر اصول کرتے ہیں جبکہ جن طلبہ سے فیس اصول کیا جاتا ہے ان میں مستحق اور غیر مستحق دونوں طرح کے طلبا ہوتے ہیں، کیا اس طرح مدرسے میں تاخیر سے آنے کی بنیاد پر کبہی جرمانہ اور کبہی خوراکی کے نام پر روپے لینا درست ہے .نیز یہ بہی بتادیں اگر کسی نے اصول کرلیا ہو تو اس کا مصرف کیا ہوگا؟
براہ کرم دونوں صورتوں کا مفصل ومدلل جواب دیکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔
اس سوال کا جواب بھت ہی جلد چاہیے سخت ضرورت ہے دو دن اندر مل جائے تو مہربانی ہوگی۔

جواب


بسم الله الرحمن الرحيم Fatwa ID: 488-488/M=5/1437
تاخیر سے آنے پرطلبہ سے لیٹ فیس وصول کرنا درست نہیں کیوں کہ یہ تعزیر مالی (مالی جرمانہ) ہے جو مختار قول کے مطابق ناجائز ہے، خوراکی کے نام پر اگر لیٹ فیس ہی وصول کرنا مقصود ہوتا ہے تو صرف نام اور عنوان بدل دینے سے حقیقت نہیں بدلتی اس لیے لیٹ فیس خواہ بطور جرمانہ وصول کیا جائے یا خوراکی کے نام سے یہ درست نہیں ہے، اگر لیٹ فیس وصول کرلی ہے تو اسے واپس کردی جائے، تنبیہ وتادیب کے لیے کوئی دوسری مناسب کاروائی کی جاسکتی ہے، اس پر غور کرلیا جائے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :63871
تاریخ اجراء :Mar 13, 2016

فتوی پرنٹ