1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

وراثت كا مسئلہ

سوال

میری دو خالہ (ان میں سے ایک غیر شادی شدہ تھیں ) ، دو ماموں اور میری والدہ کا انتقال میری نانی کی زندگی میں ہوگیا تھا، پھر میری نانی کا انتقال ہوا اور اس کے بعد میرے ایک ماموں اور دو خالہ کا انتقال ہوا، (ان میں سے ایک خالہ غیر شادی شدہ تھیں) ،اس وقت میری دو خالہ حیات ہیں ، میری مرحوم نانی کا مکان ہے جو کہ بکنے کے بعد تقسیم ہوناہے، یہ مکان بکنے کے بعد کس کس کو حصہ ملے گیا اور کس طرح تقسیم ہوگا؟ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:834-694/N=10/1440
صورت مسئولہ میں آپ کی نانی کے انتقال کے وقت ان کا صرف ایک بیٹا اور ۴/ بیٹیاں باحیات تھیں اور ۲/ بیٹے اور ۳/ بیٹیوں کا انتقال ان کی زندگی ہی میں ہوگیا تھا، پس اگر آپ کی نانی کے شرعی وارث صرف یہی ایک بیٹا اور ۴/ بیٹیاں تھیں، یعنی: نانی کے شوہر، ماں، باپ ، اور داد،ا دادی وغیرہ کا انتقال نانی سے پہلے ہی ہوگیا تھا تو آپ کی نانی کا سارا ترکہ بعد ادائے حقوق متقدمہ علی الارث ۶/ حصوں میں تقسیم ہوگا، جن میں ۲/ حصے آپ کے اس ماموں کے شرعی وارثین کو ملیں گے، جو نانی کی وفات پر باحیات تھے او ر اب ان کا بھی انتقال ہوچکا ہے، اور ایک، ایک حصہ آپ کی چاروں خالاوٴں کو ملے گا، جن میں ۲/ باحیات خالہ کے علاوہ ۲/ مرحوم خالہ بھی شامل ہیں۔ اور مرحوم ماموں کی طرح دونوں مرحوم خالاوٴں کا حصہ بھی ان کے شرعی وارثین کو ملے گا۔آپ اگر مرحوم ماموں اور دونوں مرحوم خالاوٴں کے وارثین کی تفصیل لکھتے، نیز تینوں کے درمیان ترتیب وفات بھی تو ان مرحومین کے وارثین کا حصہ الگ الگ تحریر کردیا جاتا۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :171132
تاریخ اجراء :Jun 22, 2019

فتوی پرنٹ