1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

ربیب کا وراثت میں کچھ حصہ نہیں ہوتا

سوال

میری ماں کو ان کے شوہر نے طلاق دیدی تھی جس کے بعد میری ماں نے دوسری شادی کرلی اور جن سے شادی کی ان کی پہلے سے ایک بیوی تھی جن سے ایک لڑکی تھی اب د دوسری بیوی سے ایک لڑکی پیدا ہوئی ہے، اس لحاظ سے میرے دو بہنیں ہیں، اب کیا میں اپنے دوسرے والد کی جائیداد میں حقدار ہوں یا نہیں؟ اور اگر میرے دوسرے والد اپنی جائیداد دونو ں بیٹیوں کے نام کریتے ہیں اور مجھے کچھ نہیں دیتے تو کیا دینی اعتبار سے یہ غلط ہے؟اور ایسی حالت میں کیا کرنا چاہیے؟
براہ کرم، جواب دیں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:823-683/N=10/1440
(۱): آپ کی ماں نے جس شخص سے دوسرا نکاح کیا ہے، وہ آپ کے سوتیلے باپ ہیں، یعنی: ماں کی نسبت سے وہ باپ کے درجے میں ہیں اور شریعت میں سوتیلے باپ سے وراثت کا تعلق نہیں ہوتا؛ اس لیے آپ اپنے سوتیلے باپ کی جائداد میں براہ راست کچھ بھی حق دار نہیں ہوں گے؛ البتہ اگر آپ کے سوتیلے باپ کا انتقال پہلے ہوتا ہے، پھر آپ کی ماں کا تو ماں کے واسطہ سے آپ کو سوتیلے باپ کی جائداد سے کچھ مل سکتا ہے۔
(۲): جب سوتیلے باپ کی جائداد میں آپ کا کچھ حق نہیں ہے تو ان کا آپ کو کچھ نہ دینا غلط نہیں ؛ البتہ اگرآپ مالی اعتبار سے بالکل نہتے ہیں اور وہ اپنی مرضی وخوشی سے آپ کو بھی کچھ دیدیں تو بہتر ہوگا ۔
(۳): اگر وہ اپنی مرضی وخوشی سے آپ کو بھی کچھ دیں تو آپ لے لیں؛ ورنہ صبر کریں، آپ کا جو رزق مقدر ہے، وہ کسی نہ کسی طرح آپ کو ضرور ملے گا؛ اس لیے سوتیلے باپ سے کچھ نہ ملنے پر بہت زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :171086
تاریخ اجراء :Jun 22, 2019

فتوی پرنٹ