1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

بہنوں کو وراثت نہ دینے کا گناہ کسے ہوگا؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ متوفی عبداللہ کے چار لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں مال متروکہ میں ایک مکان تھا جس کو لڑکوں نے آپس میں برابر برابر تقسیم کرلیا مکان چھوٹا اور تنگ ہونے کی وجہ سے بھائیوں نے بہنوں حصہ نہیں دیا۔
(۱) سوال یہ ہے کہ بہنوں کو حصہ نہ دینے کا وبال کن لوگوں پر ہوگا؟
(۲) سوال یہ ہے کہ اگر ایک بھائی اپنی بہنوں کو حصہ دینا چاہے تو تقسیم کی صورت کیا ہوگی؟
(۳) سوال یہ ہے کہ اگر ایک بھائی نے اپنا حصّہ ساڑھے سات لاکھ میں فروخت کیا تو اس میں بہنوں کو کیا ملے گا؟اور باقی تین بھائیوں کو بھی کچھ ملے گا یا نہیں؟
مع دلیل جواب مطلوب ہے عین کرم ہوگا۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:820-680/N=10/1440
(۱): بہنوں کو حصہ نہ دینے کا وبال حصہ نہ دینے والے بھائیوں پر ہوگا، اور اگر اس میں کوئی اور وارث بھی شریک ہو تو اس پر بھی وبال ہوگا۔
(۲): صورت مسئولہ میں اگر کوئی بھائی، اپنی بہنوں کو حصہ دینا چاہتا ہے اور مرحوم کے شرعی وارث صرف یہی ۴/ بیٹے اور ۲/ بیٹیاں ہیں اوراس نے بھائیوں کے حساب سے اپنا کل حصہ وصول کیا ہے تو اُسے جو کچھ ملا ہے، وہ کل ۱۰/ حصوں میں تقسیم کرے اور دو بہنوں میں سے ہر بہن کو ایک، ایک حصہ دیدے اور باقی آٹھ حصے خود رکھ لے، اِس صورت میں بہنوں کے حق سے اُس کا ذمہ بری ہوجائے گا۔
(۳): اگر ۴/ بھائیوں نے والد مرحوم کا ترکہ آپس میں برابر تقسیم کیا ہے اور مرحوم کے شرعی وارث صرف یہی ۴/ بیٹے اور ۲/ بیٹیاں ہیں اور کسی بھائی نے اپنا کل حصہ ساڑھے سات لاکھ روپے میں فروخت کیا ہے تو وہ ہر بہن کو ۷۵، ۷۵/ ہزار روپے دے گا اور باقی چھ لاکھ روپے خود رکھے گا اور اس میں کسی بھائی کا کوئی حق وحصہ نہ ہوگا۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :171079
تاریخ اجراء :Jun 22, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ