1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

والد کے انتقال کے بعد ان کے اكاؤنٹ میں پڑے روپے کا استعمال

سوال

میرے والد کا انتقال ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ہوا جس میں ہم لوگوں کے کافی روپے صرف ہوئے، میرے والد صاحب کے مختلف بینکوں میں تقریبا ایک لاکھ روپے پڑے ہیں مگر پاس بک پر وقتاً فوقتاً سود کی رقم کا بھی اندراج ہے لگ بھگ دس سالوں کے اندر محترم میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس پیسے کا استعمال کرسکتے ہیں؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa : 963-839/M=10/1440
اگر معلوم ہے یا یقین ہے کہ والد صاحب نے اپنی حیات میں اپنے اکاوٴنٹ سے سودی رقم نکال کر غرباء کو دیدی ہے اور اب ان کے اکاوٴنٹ میں سودی رقم بالکل نہیں ہے تو جو پیسے اکاوٴنٹ میں موجود ہیں وہ آپ ورثہ کے لئے حلال ہیں، ان کو تمام شرعی ورثہ، حسب شرع تقسیم کرکے استعمال کر سکتے ہیں اور اگر سودی رقم والد صاحب نے نہیں نکالی تھی تو سودی رقم نکال کر بلانیت ثواب فقراء کو دیدی جائے اور اصلی جمع کردہ رقم والد صاحب کے انتقال کے بعد ترکہ بن گئی۔ اس کو شرعی طریقے پر تقسیم کرلیں، تقسیم شرعی کے بعد ہر وارث اپنے حصے کی رقم استعمال کر سکتا ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :171018
تاریخ اجراء :Jun 27, 2019

فتوی پرنٹ