1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

والد صاحب كی حیات میں ان كی وراثت جاری نہیں ہوتی؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان اکرام کہ ہمارے والد صاحب کا انتقال جون2013 میں ہوا۔ ہم تین بہن بھائی (محمد ابو بکر، محمد عمر فاروق اور اقرا نورین) اور ایک والدہ محترمہ حیات ہیں اور اس کے علاوہ کوئی وارث نہ ہے۔ ہمارے والد محترم کے ترکہ میں ایک عدد دکان ہے، جس کو ہم نے 73،50،000 روپے میں فروخت کر دیا ہے۔ ہماری والدہ محترمہ کی ملکیت میں ایک عدد مکان ہے، جس کو ہم نے 34،80،000روپے میں فروخت کر دیا ہے۔ اب یہ بتائیں کہ ہمارے والد محترم کی وراثت میں اور والدہ محترمہ کی جائیداد میں میں کتنا کتنا حصہ بنے گا۔ مزید یہ بھی بتائیں کہ بیٹی کو وراثت میں کتنا حصہ اور زندہ والدین کی جائیداد میں کتنا حصہ بنتا ہے؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa : 914-783/D=10/1440
آپ نے والد مرحوم کے ورثاء میں تین بیٹے اور ایک بیوی کا ذکر کیا ہے اگر یہی ورثائے شرعی ہیں تو والد کے کل ترکہ کے (فروخت کردہ دکان کی قیمت کو شامل کرکے) چوبیس (۲۴) حصے کئے جائیں گے جن میں سے تین حصے بیوی کو اور سات سات حصے ہر بیٹے کو ملیں گے۔
آپ نے ورثاء میں کسی بیٹی کا ذکر نہیں کیا اگر بیٹی بھی ہو تو اس کی صراحت کرکے دوبارہ سوال کریں۔
والدہ جب کہ باحیات ہیں تو ابھی ان کی مملوکہ چیزوں میں وراثت جاری نہ ہوگی ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے اپنی اولاد میں خود تقسیم کرنا چاہیں تو کر سکتی ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اپنی ضرورت کے بقدر رکھ کر مابقیہ کے تین حصے کرکے ایک ایک ہر لڑکے کو دے کر مالک و قابض بنادیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :170723
تاریخ اجراء :Jun 27, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ