1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

زندگی میں للذکر مثل حظ الانثیین (لڑكے كو لڑكی كا دوگنا) کے مطابق تقسیم

سوال

کیا فرمارے ہیں مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے متعلق؟ خالدہ اپنی حیات میں اپنا کچھ مال لذکر مثل حظ الانثیین کے مطابق تقسیم کرنا چاہتی ہے ، کیا شرعا اس کی گنجائش ہے ؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa : 853-722/D=09/1440
حیات میں زمین جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کرنا واجب نہیں نہ ہی اولاد کے لئے تقسیم کا مطالبہ کرنا جائز ہے۔
لیکن اگر کوئی شخص اپنی مرضی سے اپنا مال اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہتا ہے تو بہتر ہے کہ ہر لڑکے لڑکی کو برابر برابر دے اور اگر للذکر مثل حظ الأنثیین کے مطابق لڑکے کو دوگنا اور لڑکی کو اکہرا حصہ دے تو یہ بھی جائز ہے۔
پس صورت مسئولہ میں خالدہ کے لئے مناسب ہے کہ اپنی ضرورت کے بقدر مال و سامان رکھ لے تاکہ بعد میں محتاجی نہ ہو پھر لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان للذکر مثل حظ الأنثیین کے موافق تقسیم کردے اس کی گنجائش ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :170268
تاریخ اجراء :May 26, 2019

فتوی پرنٹ