1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

حق سے دستبرداری كا قرار نامہ لکھنا

سوال

اگر کسی شخص بیٹی یا بیٹاکو باپ اپنی حیاتی میں کچھ رقم یا جگہ دے اور بعد وفاتِ والد کے ترکہ میں چھوڑی گء ملکیت تقسیم کئے بنا کسی ایک وارث کے ذریعے یہ کہہ کر کے آپ لوگوں کو ابا پہلے ہی دے چکے ہیں،باقی ماندہ وارثوں سے حق چھوڑ قرار نامہ لکھا لینے سے کیا باقی ماندہ وارثوں کا حق باپ کے ترکہ سے ختم ہوجائے گا؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa : 832-711/D=09/1440
والد نے زندگی میں بیٹے یا بیٹی کو جو رقم دے کر مالک و قابض بنادیا وہ لڑکا لڑکی اس کا مالک ہوگیا نیز یہ رقم والد کے مرنے کے بعد ترکہ میں محسوب نہ ہوگی یعنی والد کے ترکہ میں سے جس طرح دوسرے ورثاء اپنے اپنے حصص شرعیہ کے حقدار ہوں اسی طرح یہ بیٹا بیٹی بھی حقدار ہوگا اور حصہ پائے گا۔
لہٰذا دوسرے ورثاء کا یہ کہنا کہ یہ بیٹا بیٹی حصہ پا چکے درست نہیں اور اس طرح کا اقرار نامہ لکھوانا بھی جائز نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :170193
تاریخ اجراء :May 18, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ