1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

دادا کے بیٹیوں کو ترکہ میں حصّہ كس حساب سے ملے گا؟

سوال

محترم مفتی صاحب میرا دادا کچھ عرصہ قبل وفات پاچکا ہے ۔ اس نے ترکہ میں ایسا گھر چھوڑا ہیں جس کے زمین انہوں نے خریدی اور آدھی آبادی انہوں نے اپنے خرچہ سے آدھے آبادی پکّی اور آدھی کھچی کچی کی۔ کچھ عرصہ بعد ان کے بیٹوں نے کچی آبادی گرا کر پکی اس کو پکّا کیا۔ تو اب مسئلہ یہ ہے کہ میرے دادا کے بیٹیوں کو ترکہ میں حصّہ زمین اور آدھی آبادی کے لحاظ سے ملی گی یا مکمل گھر کے حساب سے ؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa : 861-720/B=08/1440
صورت مذکورہ میں دادا کے بیٹوں کو مکمل گھر کے حساب سے جائداد ملے گی بشرطیکہ سب بیٹوں نے ایک ساتھ رہتے ہوئے راضی خوشی کے ساتھ متفقہ طور پر آدھا حصہ تعمیر کر دیا ہے۔ اور اگر کسی نے بطور قرض پیسہ لگایا ہے تو اپنا پیسہ واپس لے سکتا ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :170097
تاریخ اجراء :May 2, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ