1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

ایك لڑكا‏، ایك لڑكی اور دو بیویوں كے درمیان وراثت كی تقسیم

سوال

میت نے اپنی جائداد میں 1200000 روپیہ چھوڑے ہیں جس میں سے ان کے اوپر 50000 کا قرضہ ہے اورتکفین کا خرچ۔5000 اور پسماندگان میں دو بیوی اور ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے ۔ از راہ کرم یہ بتائیں کہ کتنے رقم میں جائداد تقسیم ہوگی اور کتنے کتنے رقم سبھوں کے حصہ میں آئیں گے ؟ جزاکم اللہ

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa : 797-634/SN=08/1440
مرحوم کے والد، والدہ، دادا، دادی اور نانی کا اگر مرحوم سے پہلے ہی انتقال ہو گیا تھا، بہ وقت وفات صرف دو بیویاں، ایک بیٹا اور ایک بیٹی حیات تھیں تو صورت مسئولہ میں مرحوم نے مذکور فی السوال رقوم کے بہ شمول جو کچھ بھی ترکہ (مکان، دکان، سامانِ مکان اور دیگر اثاثہ وغیرہ) چھوڑا ہے ، بعد ادائے حقوق متقدمہ علی الارث (یعنی تجہیز وتکفین کے اخراجات ، قرض وغیرہ کی ادائیگی کے بعد) کل ۴۸/ حصوں میں تقسیم ہوکر ۳-۳/ حصے دونوں بیویوں میں سے ہر ایک کو ۲۸/ حصے بیٹے کو اور ۱۴/ حصے بیٹی کو ملیں گے۔ نقشہ تخریج حسب ذیل ہے:
کل حصے   =             ۴۸
-------------------------
زوجہ         =             ۳
زوجہ         =             ۳
ابن          =             ۲۸
بنت         =             ۱۴
--------------------------------
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :170034
تاریخ اجراء :Apr 29, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ