1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

لاپتہ شخص كی جائداد كی تقسیم كا مسئلہ

سوال

میرے چچا بیس سال سے لاپتہ ہیں ، ان کی بیوی نہیں ہے اور نہ کوئی اولاد ہے بلکہ صرف ان کے بھائی اور بہنیں ہیں ، براہ کرم، بتائیں کہ کی ان کی جائیداد ان کے گھر کے ممبروں یعنی بھائی اور بہنوں کے درمیان کیسے تقسیم کریں؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa : 776-692/M=07/1440
جب تک لاپتہ شخص (مفقود) کی موت کا یقینی علم نہ ہو جائے اس وقت تک اس کا مال موقوف رکھا جائے گا، اسلامی ملک میں قاضی اور غیر اسلامی ملک میں جماعت مسلمین (شرعی پنچایت) اچھی طرح تحقیق و تفتیش کے بعد شرعی ضابطے کے مطابق جب مفقود (لاپتہ) کی موت کا فیصلہ کردیں تو اس وقت اس کا مال بوقت فیصلہ موجود ورثہ میں حسب حصص شرعیہ تقسیم کردیا جائے گا۔ آپ کے سوال میں لاپتہ چچا کے بھائی، بہنوں کی تعداد بھی مذکور نہیں نیز اس کا حل شرعی عدالت یا محکمہ شرعی پنچایت سے ممکن ہے اس لئے مقامی یا قریبی شرعی پنچایت سے رجوع کریں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :169808
تاریخ اجراء :Apr 7, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ