1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

بیوہ نکاح کرلے تو وراثت میں حصے دار ہوگی یا نہیں؟

سوال

ایک شخص کی پہلی بیوی سے 7 بالغ بیٹے ہیں ۔ پہلی بیوی وفات کے بعد دوسری شادی کی۔ دوسری بیوی سے ایک بیٹا اور ایک بیٹی پیدا ہونے کے بعد شوہر حادثے میں فوت ہوا۔بیوہ نے ورثاء کی مرضی کیخلاف دوسری نکاح کی۔کیا بیوہ پہلے شوہر کے وراثت میں حصہ دار یے ؟اگر ہے تو کتنے حصے کا؟ شکریہ۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:757-663/sn=8/1440
جی ہاں ! صورت مسئولہ میں شخص مذکور کی بیوہ اپنے مرحوم شوہر کی میراث میں حصے دار ہے، دوسری جگہ شادی کرلینے کی وجہ سے وہ اپنے مرحوم شوہر کی میراث سے محروم نہ ہوگی، مرحوم نے جو کچھ بھی ترکہ چھوڑا ہے (بعد ادائے حقوق متقدمہ علی الارث ) اس کا آٹھواں حصہ بیوہ کو ملے گا اور مابقیہ مرحوم کے دیگر ورثا کو ملے گایعنی اگر اِس شخص کے والدین دادا دادی اور نانی کا پہلے ہی انتقال ہوچکا ہے، مرحوم نے بہ وقت وفات صرف آٹھ بیٹوں اور ایک بیٹی کو ہی چھوڑا ہے تو مرحوم کا ترکہ مجموعی طور پر 136 /حصوں میں تقسیم ہوکر 17/ حصے بیوہ کو ،7/ حصے بیٹی کو اور 14...14( چودہ چودہ) حصے آٹھوں بیٹوں میں سے ہر ایک کو ملیں گے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :169767
تاریخ اجراء :May 2, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ