1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

دادا کے میراث سے متعلق سوال

سوال

اسلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
حضرت میرے والد صاحب کا انتقال میرے دادا کے انتقال سے دو سال پھلے ھوا ھے اور میرے والد کل چھ بھائی ھیں اور کوئی بھن نھیں اور میری دادی میرے دادا کے انتقال سے پھلے انتقال کر گئیں ھیں تو میرے دادا کے وارث میں کل ان کے پانچ بیٹے ھیں اور میرے دادا کی کل چار جائیداد درج ذیل ھے مھر بانی فر ماکر ان کے جواب دے دیجئیے
پہلا مکان ھے ایک بسہ کا جس میں وہ رھتے تھے وہ کورنر کا مکان ھے تو ایک کے حصہ میں کورنر آے گا دوسرے میں نھیں آے گا اور ایک کے حصہ میں زیادہ کمرے آجائیں اور دوسرے میں کم آجائیں تو ایسے فرق میں کیسے آسانی سے تقسیم کیا جائےمکان کو پانچوں چچا کے درمیان
۔دوسری زمین ھے ڈھائی بسہ کی اس زمیں میں تھسیل کی کتونی میں میرے دادا کے وارث میں ان کے پانچوں بیٹے کا نام درج ھے اور چٹھے بیٹے میرے والد کی جگھ میری والدہ اور ھم دونوں بھائیوں کا نام درج ھے مفتی صاحب تو ھم کو یہ زمین میں حصہ لینا جائز ھوگا کی نھیں
۔تیسرا کھیت ھے تیس بسہ کا اس میں میرے دادا نے میرے والد کے انتقال کے بعد وصیت کی یہ کھیت میرے پورے چھ بیٹے میں برابر تقسیم ھوگا پانچ پانچ بسہ پانچوں بیٹے لے لیں گے اور آخری پانچ بسہ میرے والد کی جگہ ھم دونوں بھائ کے نام وصیت کی یہ وصیت نامہ میرے پاس موجود ھے لیکن اس وصیت نامہ میں اختلاف ھے آپس کے چچا میں کی یہ وصیت دادا کی مرضی سے نھیں ھوا یہ ایک چچا نے اپنی مرضی سے بنوا کر دادا سے دستخط کروا لیا اور لیکن اس وقت دادا آخر عمر میں تھے اتنا زیادہ ھوش بھی نھیں تھا لیکن کچھ چچا کادستخط بھی گواہ کے طور پر اس پر موجود ھے اور بعد میں وھی لوگ بول رھیں ھے کی یہ دادا کی مرضی سے نھیں بنا ھے والله اعلم کیا اس میں صحیح اور کیا غلط پتا نھیں اس وصیت کے ڈیڑھ سال بعد دادا کا انتقال ھو کیا اور وصیت کے بعد غلہ آنا شروع ھو گیا انتقال کے بعد بھی آتا رھا بعد میں اس کو ھم دونوں بھائیوں نے 275000 روپیہ میں فروخت کر دیا اور فروخت کرتے وقت کسی کو کوئی اعتراض بھی نھیں ھوا حضرت مفتی صاحب سوال یہ ھے کی شرعن اس کھیت
میں ھم دونوں بھائیوں کا حصہ تھا کی نھیں اور اگر نھیں تو کیا یہ 275000 روپیہ ھم کو واپس اپنے چچا لوگون کو دینا ھوگا اور اتنا سال غلہ بھی لیا اس کا کیا حکم ھوگا مھربانی فر ماکر جواب دے دیجئیے
۔چوتھا ایک مکان ھے جو چار بسہ کا ھے جو میرے والد اور دادا کے نام ھے لیکن اس مکان کے بارے میں سب کو پتا ھے کی اس میں میرے والد کا
پورا پیسہ لگا ھے لیکن میرے دادا کا آدھے مکان پر ایسے ھی نام ھےاور میرے والد باھر رھتے تھے تو پورے مکان پر دادا ھی کی نگھبانی تھی ٹھیک تیسرے کھیت کی طرح میرے والد کے انتقال کے بعد میرے دادا نے اس مکان پر اپنے آدھے حصہ پر ھم دونوں بھائیوں کے نام ھبہ نامہ لکھا کی یہ آدھا حصہ میں اپنے دونوں پوتوں کو ھبہ کرتا ھوں اور یہ ھبہ نامہ میرے پاس موجود ھے لیکن ٹھیک کھیت کی طرح چچا میں اختلاف تھا کی یہ کاغذ ایک چچا نے بنواکر دادا سے دستخط کروالیا والله اعلم کیا اس میں صحیح ھے اور کیا غلط پتا نھیں اب مفتی صاحب سوال یہ ھے کی اس پورے مکان پر قبضہ ھمارا ھی ھے کیا اس مکان میں سے اپنے چچا لوگوں کو حصہ دینا ھوگا کی نھیں اور اگر حصہ دینا ھوگا تو کیسے دلائے گا کیوں کی اس مکان میں پھلے زمیں خالی ھے اور پھر بیچ میں مکانیت ھے اور پھر پیچھے زمین خالی ھے اس میں آدھا کیسے تقسیم ھوگا پورا تفصیل کے ساتھ مھربانی کر کے بتلا دیجئیے اور اگر کوئی چچا نہ لینا چاھے تو اس کا کیا حکم ھے

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:805-92T/L=8/1440
(۱) وراثت کی تقسیم میں ایک قسم کے ورثاء کے درمیان مساوات حقیقتاً یا معنی ضروری ہے؛اس لیے اگر کسی طرف کم کمرے آتے ہوں تو جس وارث کے حق میں وہ حصہ آئے تو اس کا حصہ کچھ بڑھا دیا جائے تاکہ اس کا حصہ بھی دوسروں کے برابر ہوجائے یا دوسرے ورثاء اس کمی کی تلافی رقم دے کرکردیں ،اور اگر سب ورثاء میں وہ مکان تقسیم نہ ہوسکتا ہو تو قیمت کے اعتبار سے بھی اس کی تقسیم کی جاسکتی ہے اور جو وارث مکان لینا چاہیں وہ دوسرے ورثاء کو ان کے حصے کی قیمت دیدیں ۔ وإذا کانت الدار بین رجلین فاقتسماہا علی أن یزید أحدہما علی الآخر دراہم مسماة فہو جائز (الفتاوی الہندیة 5/ 213) وإذا کان أرض أو بناء فعن أبی یوسف - رحمہ اللہ تعالی - أنہ یقسم کل ذلک باعتبار القیمة وعن أبی حنیفة - رحمہ اللہ تعالی - أنہ یقسم الأرض بالمساحة ثم یرد من وقع البناء فی نصیبہ أو من کان نصیبہ أجود دراہم علی الآخر حتی یساویہ فتدخل الدراہم فی القسمة ضرورة (الفتاوی الہندیة 5/ 205)
(۲)اگر یہ زمین آپ کے دادا کی ہے تو محض دیگر لوگوں کے نام ہونے کی وجہ سے وہ لوگ اس کے مالک نہ ہوں گے ؛البتہ اگردادانے نام کرنے کے بعد ہر ایک کو اپنے اپنے حصہ کا مالک وقابض بھی بنادیا تھا تو اس کی وضاحت کرکے دوبارہ سوال کیا جائے پھر ان شاء اللہ جواب دیا جائے گا ۔
(۳)اگر بوقتِ وصیت دادا ہوش وحواس میں تھے تو انھوں نے جو وصیت کی اس کی بموجب آپ دونوں بھائی اپنے حق میں وصیت کی وجہ سے زمین کے اتنے رقبے کے مالک شمار ہوں گے ؛البتہ آپ کے چچاؤں کے حق میں وصیت کا اعتبار نہ ہوگا ؛بلکہ بقیہ زمین ترکہ بن جائے گی جو دادا کے جملہ ورثاء کے درمیان ان کے حصص کے اعتبار سے تقسیم ہوگی۔اگر آپ کے چچا اس وصیت کے وقت دادا کے ہوش میں ہونے کا انکار کرتے ہیں تو اس صورت میں بہتر ہے کہ باہم کچھ علماء کو ساتھ رکھ کر مسئلہ کو حل کرلیا جائے ۔
(۴) اگر اس مکان میں پوری رقم آپ کے والد کی لگی ہے اور آپ کے والد نے اپنے والد(آپ کے دادا) کا نام رجسٹری میں کسی وجہ سے ڈلوادیا تھا،باضابطہ ہبہ کرکے مکان کے نصف کا مالک وقابض ان کو نہیں بنایا تھا بلکہ وہ مکان آپ کے والد کی ہی ملک رہا تو ایسی صورت میں اس مکان کے حقدار آپ کے والد کے ورثاء ہوں گے ،آپ کے چچا وغیرہ کا اس میں حصہ نہ ہوگا اور اگر آپ کے والد نے مکان کے اس حصہ کا مالک وقابض بھی آپ کے دادا کو بنادیا تھا تو اس کی وضاحت کرکے سوال کیا جائے پھر ان شاء اللہ جواب دیا جائے گا ۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :169488
تاریخ اجراء :May 1, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ