1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

ورثہ میں والد‏، تین بھائی‏، تین بہن ہوں تو تركہ كی تقسیم

سوال

وراثت کے بارے میں رہنمائی فرمائیں۔
بھاٹی سلیمان عثمان منیع کا انتقال ہو گیا، مرحوم غیر شادی شدہ تھے ، مرحوم کے والداہ محترمہ کامرحوم سے پہلے انتقال ہو گیا ہے ، مرحوم کے والد محترم حیات ہیں، اور3 بھاٹی اور 3 بہن موجود ہے ، مرحوم کی وراثت کی تقسیم تفصیلات کے حوالے سے رہنمائی فرمائیں۔ دسراایک مسئلہ یہ ہے کہ اگر کل مال کا والد کا ہو نے کی سورت میں والد اپنی حیاتی میں مال کو اولاد میں تقسیم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اختلاف وطن کی وجہ سے بعد مین بہت مسائل ہوتاہے ۔
آپ سوال یہ ہے کہ حیاتی میں تقسیم ہو گی تو لڑکے کا 2 حصہ اور لڑ کا ایک حصہ ہوگا یا لرکا لرکی کا برابر ہو گا، آپ رہنمائی فرمائیں. اللہ پاک آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے . آمین

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:342-301/M=4/1439
صورت مسئولہ میں مرحوم سلیمان عثمان منیع کا پورا ترکہ ان کے والد محترم کو مل جائے گا، والد صاحب کی موجودگی میں بھائی بہنوں کو کچھ نہیں ملے گا، مسئلے کی تخریج
اب = 1
اخ = 3
اخت = 3
اگر والد صاحب اپنی حیات میں اپنا مال اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں اور زندگی میں باپ، اولاد کو جو کچھ دیتا ہے وہ عطیہ اور ہبہ ہوتا ہے وراثت کی تقسیم نہیں ہوتی اس لیے اولیٰ اور افضل یہ ہے کہ زندگی میں تمام اولاد کو خواہ مذکر ہو یا موٴنث برابر حصہ دیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :157616
تاریخ اجراء :Jan 9, 2018

PDF ڈاؤن لوڈ