1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

ورثا میں ایک بہن رئیسہ خاتون، زوجہ نساء خاتون،سات بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں وراثت كی تقسیم كس طرح ہوگی؟

سوال

ایک شخص حسین احمد کا انتقال ہوگیا،ان کے ورثا میں ایک بہن رئیسہ خاتون، زوجہ نساء خاتون،سات بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں، میت کے چار بھائی اور دو بہن اور تھیں ان کا بھی انتقال ہوچکا ہے ، صرف ایک بہن حیات ہیں، شرعی لحاظ سے میت کی میراث کس طرح تقسیم ہوگی، بینوا توجروا ،جزاکم اللہ خیرا

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 1449-1418/M= 1/1439
اگر مرحوم حسین احمد کے ماں باپ حیات نہیں ہیں تو مرحوم کا ترکہ حقوق مقدمہ علی الارث کی ادائیگی کے بعد از روئے شرع ۱۴۴/ سہام میں منقسم ہوگا جن میں سے ۱۸/ سہام زوجہ (نساء خاتون) کو اور ۱۴، ۱۴/ حصے سات لڑکیوں میں سے ہرایک کو اور ۷،۷/ سہام چار لڑکیوں میں سے ہرایک کو ملیں گے اور بہن کو اس صورت میں ترکہ سے کچھ نہیں ملے گا۔
زوجہ = ۱۸
۷/ بیٹے = ۹۸               ہرایک کو = ۱۴، ۱۴
۴/ بیٹیاں = ۲۸            ہرایک کو = ۷، ۷
بہن = x
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :154840
تاریخ اجراء :Oct 15, 2017

PDF ڈاؤن لوڈ