1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

نماز کا فدیہ زندگی میں ادا نہیں کیا جاسکتا

سوال

اپ سے ایک مسئلہ پوچھنا ہے کہ آج سے کچھ عرصہ پہلے میں، پاکستان میں امامت کے فرائض سر انجام دے رہا تھا ،میرا ایک مقتدی جو کہ اس وقت ہانگ کانگ میں تھا اور اس کا ایک بھائی جو کہ میرا دوست تھا انگلینڈ میں تھا اور ان کا باپ پاکستان میں بیمار چارپائی پر تھا ہانگ کانگ والا بھائی جو کہ بڑا بھائی تھا، اس نے مجھے اپنے گھر کے معاملات کی ذمہ داری سونپی اور مجھے بینک اکاؤنٹ کارڈ دیا جس سے میں روپئے غیرہ نکال کر اس کے باپ کے اوپر اور دیگر معاملات میں خرچ کرتا ۱! ساری رقم بینک میں تھی ان کے باپ کی تھی۔۲!اسکے باپ نے بینک اکاؤنٹ اپنے نام اور دو بیٹوں کے نام کیا تھا، ۳! اور بینک اکاؤنٹ سیونگ اکاؤنٹ تھا جس میں ہر چھ مہینے بعد سودی منافع آتا تھا شروع کے دو مہینے میں نے حساب کتاب صحیح لکھا پھر میں نے حساب کتاب خلط ملط کرنا شروع کر دیا پھر مجھے احسا س ہوا کہ یہ حقوق العباد ہے اس کے بارے میں قیامت کے دن پوچھ ہو گی لیکن شیطان پھر مجھ سے غلطی کر وادیتا ایک دن میں نے چھوٹے بھائی کو کہا کہ یہ تمہارا سودی اکاؤنٹ ہے ہر چھ مہینے بعد اس میں منافع آتا ہے تو کیا میں اسے لگا دوں مسجد کے لیٹرین کی جگہ لیکن میں نے خود خرچ کر دیئے اس نیت سے کہ یہ سود کا پیسہ ہے چونکہ میری تنخواہ پانچ ہزار ہے ، میرے اوپر بھی لگتا ہو گا احساس تو مجھے تھا خلط ملط کا لیکن سمجھ نہیں سکا، پھر مجھے خیال آیا کہ ان سے اس طرح اجازت لوں کہ تمھارا باپ بیمار ہے اس کی نمازوروزے رہتے ہیں اس کا فدیہ وغیرہ دے دوں تو اس طرح ایک حیلہ ہو جائے گا، میرے لیے روپئے استعمال کرنے کا خیر معاملہ چلتا رہا، دو سال چھ ماہ تک پھر میں شادی کر کے انگلینڈ آ گیا ،پیچھے تین ماہ بعد ان کے باپ کا انتقا ل ہو گیا، پھر اس کی وراثت تقسیم ہوئی دو بھائیوں میں باقی جو پیسے سودی اکاؤنٹ کے تھے وہ بھی تقسیم ہوئے ، لیکن میرے دل کو اطمینان نہیں تھا، پھر میں نے ایک دن بذریعہ فون ہا نگ کانگ والے بھائی سے اس طرح معافی مانگی کہ تجھ سے پوچھے بغیر میں نے تمہارے باپ کی نماز وروزوں کا فدیہ دیا ہے (حالانکہ زیادہ میں خود استعما ل کر لیتا اپنے اپ کو حقدار سمجھ کر اور تھوڑے سے غریبوں کو دے دیتا )،لہذا مجھے معاف کر دو اور بھی مجھ سے جو حساب میں میں غلطی ہوئی، مجھے معاف کر دو اس نے مجھے معا ف کر دیا لیکن وہ دو ماہ بعد وہ فوت ہو گیا ،اب اس کاچھوٹابھائی زندہ ہے اسے بھی میں نے کہا ہے کہ تمہارے باپ کے جو پیسے میں نے دیئے ہیں نمازوں کے وہ ادا نہیں ہوئے ، میں تمہیں واپس کروں گا، اس نے کہا کہ چھوڑو اب جو ہو گیاسو ہو گیا ،میرے باپ کے پیسے تھے اسی کے اوپر لگ گئے ، کوئی بات نہیں۔
اب مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ اس طرح معافی ہو گئی میری یا نہیں؟کیونکہ انہیں یہ نہیں پتا کہ میں اپنے آپ کو ان روپیوں کا حقدار سمجھ کر خرچ کرتا تھا، اپنے اوپر اور تھوڑے سے غریب لوگوں کو دے دیتا ،چونکہ یہ مسئلہ حقوق العباد سے ہے ، اب مجھے بہت خوف ہے ، اللہ تعالٰی کے سامنے میں کیا جواب دوں گا ۔میرا اس چھوٹے بھائی کے ساتھ اتنا گہرا تعلق ہے کہ وہ ناراض نہ ہو جائے گااس کو میں یہ بتاؤں تو اپ سے گذارش ہے کہ میری رہنمائی فرمائیں اس مسئلہ میں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 1354-1295/sd=12/1438
صورت مسئولہ میں آپ نے اپنے دوست کے مرحوم باپ کی رقم میں سے اپنے طور پر فدیہ کے نام پر جو کچھ اپنے اوپر خرچ کیا، وہ صحیح نہیں ہوا ، فدیہ کی ادائے گی کے لیے باپ سے اجازت ضروری تھی، بیٹے سے اجازت لینا کافی نہ تھا، اس لیے کہ رقم کا مالک باپ تھا، بیٹا نہیں اور باپ کے انتقال کے بعد اُس رقم کا ورثاء کو واپس کرنا ضروری تھا؛ اس لیے کہ باپ کے انتقال کے بعد اُس سے ورثاء کا حق متعلق ہوگیا تھا، بہرحال! انتقال کے بعد اگر اُس کے ورثاء میں دو بیٹے تھے اور آپ نے اُس کے دونوں بیٹوں سے فدیہ کے سلسلے میں بتادیا تھا اور انھوں نے اجازت دیدی تھی اور جو کچھ کمی بیشی ہوئی ہو،اُس کومعاف کردیا تھا، تو انشاء اللہ اللہ تعالی کے یہاں بھی معافی ہوجائے گی؛ آپ سچے دل سے توبہ استغفار کریں اور اگر زیادہ خلجان ہو، تو مرحوم باپ کی طرف سے کچھ رقم غرباء کو صدقہ کردیں۔
--------------------------------
نوٹ: نماز کا فدیہ زندگی میں ادا نہیں کیا جاسکتا وہ تو مرنے کے بعد ہی ادا ہوتا ہے۔(د)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :154147
تاریخ اجراء :Sep 14, 2017

PDF ڈاؤن لوڈ