1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

ماں باپ کی حیات میں وصیت اور اس کی تقسیم !

سوال

ماں باپ کی عمر ۶۰/ اور ۶۶/ ہے۔ ان کے پانچ لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں، جن میں سے چار لڑکوں اور دو لڑکیوں کی شادی ہوگئی ہے۔ چھوٹا بیٹا ابھی غیر شادی شدہ ہے۔ کُل ملکیت چالیس لاکھ کی ہے جو بطور شکل فلیٹ ہے۔ اس فلیٹ میں لڑکے رہتے ہیں اپنی شریکِ حیات کے ساتھ، اب کوئی فلیٹ بڑا ہے تو کوئی چھوٹا ہے، اِن کی تقسیم کیسے ہو گی۔ لڑکیوں کا کتنا حصہ رہے گا؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ پانچ بھائیوں میں سے ایک بھائی کا انتقال ہو گیا ہے (۲/۵/۲۰۱۶) کو۔ جس کی بیوہ ابھی عدت میں ہے اُس کے تین بچے ہیں اِن کا کتنا حصہ ہوگا؟

جواب


بسم الله الرحمن الرحيم Fatwa ID: 1204-1157/H=11/1437
(۱) زندگی میں ماں باپ کے ذمہ جائداد تقسیم کرکے دینا واجب نہیں ہے تاہم اگر تقسیم کرنا چاہیں تو شرعاً اس کا بھی حق ہے پس اگر ماں باپ اپنے اور اپنے یتیم پوتوں پوتیوں کے لیے مناسب مقدار میں جائداد وغیرہ کو مختص کرکے بقیہ جائداد کو بارہ حصوں میں تقسیم کردیں اور میراث کے اصول پر دو دو حصے پانچوں بیٹوں کو اور ایک ایک حصہ دونوں بیٹیوں کو دیدیں تو یہ بھی درست ہے اور سات حصوں پر تقسیم کرکے بیٹے اور بیٹیوں کو برابر برابر دینا چاہیں تو ایک قول کے مطابق استحبابی درجہ میں اِس کی بھی گنجائش ہے اگر فلیٹ چھوٹے بڑے ہیں تو ہر فلیٹ کی قیمتِ موجودہ کو لگا کر کمی بیشی کو رقم کے لین دین کے ساتھ برابر کرلیں۔
(۲) دادا دادی کے لیے بہتر یہی ہے کہ مناسب مقدار میں از راہ صلہ رحمی یتیم پوتے پوتیوں اور ان کی بیوہ ماں کو اپنی حیات میں کچھ جائداد یا رقم وغیرہ دیدیں اس لیے کہ دادا دادی کی وفات کے بعد یتیم پوتے پوتیوں کو میراث میں سے صورتِ موجودہ میں کچھ نہ ملے گا۔
اولاد کے حق میں وصیت کا اعتبار نہیں ہوتا اور پوتے پوتیوں یا بیوہ بہو کے حق میں اگر چہ وصیت درست ہو جائے گی مگر بہتر یہی ہے کہ بجائے وصیت کے اپنی زندگی میں دے کر مالک وقابض بنادیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :68396
تاریخ اجراء :Aug 17, 2016

PDF ڈاؤن لوڈ