1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ اگر کسی شخص کا انتقال ہوجاتاہے اور پسماندگان میں اس کی بیوی ، دو غیر شادی شدہ بالغ بیٹیاں، والدہ، دو بڑے بھائی جن میں سے ایک بھائی کی تین بیٹیاں اور دوسرے بھائی کے تین بیٹے ،ایک بیٹی اور تین بہنیں

سوال

میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ اگر کسی شخص کا انتقال ہوجاتاہے اور پسماندگان میں اس کی بیوی ، دو غیر شادی شدہ بالغ بیٹیاں، والدہ، دو بڑے بھائی جن میں سے ایک بھائی کی تین بیٹیاں اور دوسرے بھائی کے تین بیٹے ،ایک بیٹی اور تین بہنیں ہوں اور مرحوم شخص کے پاس ایک گھر ، ایک رہائشی پلاٹ ہیں جو اپنی کمائی سے خریدے ہیں تو اس کو کیسے تقسیم کریں گے؟ براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 576-576/M=6/1436-U
صورت مسئولہ میں شخص مرحوم کا ترکہ (گھر، پلاٹ وغیرہ) از روئے شرع ۴۸/سہام میں منقسم ہوگا جن میں سے ۶/ سہام بیوی کو اور ۸/ سہام والدہ کو اور ۱۶، ۱۶ دونوں بیٹیوں میں ہرایک کو اور ۱، ۱/ سہم مرحوم کے دونوں بھائیوں میں سے ہرایک کو ملے گا، دونوں بھائی کی اولاد کو کچھ نہیں ملے گا۔ مسئلے کی تخریج حسب ذیل ہے: زوجہ=۶ ام=۸ بنت=۱۶ بنت=۱۶ اخ=۱ اخ=۱
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :58477
تاریخ اجراء :Mar 18, 2017

PDF ڈاؤن لوڈ