1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

ہمارے یہاں ایک حاجی صاحب ہیں، وہ اپنی موت سے پہلے ہی اپنی اولاد کے درمیان کل جائداد تقسیم کر دینا چاہتے ہیں ، ، لیکن ایک فرزند کو محروم کر نا چاہتے ہیں ، کیونکہ وہ اس سے سخت ناراض ہیں ،اس نے کبھی اپنے والد کی اطاعت نہیں کی

سوال

ہمارے یہاں ایک حاجی صاحب ہیں، وہ اپنی موت سے پہلے ہی اپنی اولاد کے درمیان کل جائداد تقسیم کر دینا چاہتے ہیں ، ، لیکن ایک فرزند کو محروم کر نا چاہتے ہیں ، کیونکہ وہ اس سے سخت ناراض ہیں ،اس نے کبھی اپنے والد کی اطاعت نہیں کی ، ہمیشہ والد کو اس سے نفرت رہی، اب وہ اسے محروم کرنا چاہتے ہیں، ، تو کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟؟ نیز ان کے لئے اولی اور بھتر کیا ہے ؟

جواب


بسم الله الرحمن الرحيم Fatwa ID: 563-589/L=5/1436-U
زندگی میں بھی جائداد کی تقسیم کی جاسکتی ہے؛ البتہ زندگی میں مال وجائداد کی تقسیم وراثت نہیں ہے، بلکہ ہبہ اور عطیہ ہے اور ہبہ وعطیہ میں اولاد کے درمیان خواہ مذکر ہو یا موٴنث مساوات (برابری) سے کام لینا مستحب ہے، اگر کسی اولاد کو اس کے نیک ہونے یا محتاج ہونے یا کسی اور وجہ سے کچھ زائد دیدی جائے جب کہ اس سے مقصود دیگر اولاد کو نقصان پہنچانا نہ ہو تو اس کی گنجائش ہے، البتہ کسی اولاد کو بالکلیہ محروم کردینا صحیح نہیں، اس کے نافرمان ہونے کی وجہ سے اس کو کچھ کم دے سکتے ہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :57953
تاریخ اجراء :Mar 11, 2015

PDF ڈاؤن لوڈ