1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

وراثت کی تقسیم میں جو تا خیر ہوئی اسکی تلافی کیسے کی جائے۔

سوال

مفتی صاحب میرا سوال میراث سے متعلق ہے۔
میرے والدصاحب کاانتقال سن اسی میں ہوا۔ ورثاء میں آیک بیوہ،دو بیٹے اور سات بیٹیاں چھوڑیں۔ سات میں سیتین بیٹیاں پہلی بیوی سے ہیں پہلی بیوی کا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔
ترکہ میں جائداد،مکان اور پانچ دوکانیں چھوڑیں۔ جبکہ مکان مرحوم نے اپنی زندگی میں ہی بڑے بیٹے کے نام کر دیا تھا۔
انتقال سے پہلے چار بیٹیوں کی شادی ہو چکی تھی۔جبکہ انتقال کیبعدتین بیٹیوں اور ایک بیٹے کی شادی میں والدکی چھوڑی ہوئی جائداد کا بھی کچھ حصہ استعمال ہوا۔ جبکے دوکانوں کا ماہانہ کرایہ والدہ اور دونوں بھائی استعمال کر رہے ہیں۔
برائے مہربانی مندرجہ ذیل میں رہنمائی فرما ئیں۔
ا۔۔ وراثت کی تقسیم میں جو تا خیر ہوئی اسکی تلافی کیسے کی جائے۔
ب۔۔ والدہ، دو لڑکے اور سات لڑکیوں کے میراث میں کتنے حصہ آئیں گے۔مثلا کل میراث کے کتنے حصے بنیں گے اور ہر وارث کو کتنے حصے ملیں گے۔ نیز میراث کی تقسیم پر مزید تا خیر کر نے پر گناہ کس پہ ہو گا۔

جواب


بسم الله الرحمن الرحيم فتوی: 1129-894/H=10/1434
(۱) سچی پکی توبہ کریں اور کسی نے دوسرے کی اجازت کے بغیر کچھ مال لیا ہو اس کو ترکہ میں شامل کردے اور جلد از جلد پہلی فرصت میں والدِ مرحوم کا ترکہ تقسیم کرکے ہروارث کو اس کا حصہٴ شرعیہ اس کے قبضہ میں دیدیں۔
(۲) بعد ادائے حقوق متقدمہ علی المیراث وصحتِ تفصیل ورثہٴ شرعی والد مرحوم کا کل مالِ متروکہ اٹھاسی حصوں پر تقسیم کرکے گیارہ حصے مرحوم کی بیوہ کو اور چودہ چودہ حصے مرحوم کے دونوں بیٹوں کو اور سات سات حصے مرحوم کی ساتوں بیٹیوں میں سے ہرہربیٹی کو ملیں گے اگر والد محروم نے اپنے والدین میں سے کسی کو چھوڑا ہو تو یہ تقسیم کالعدم سمجھیں اور سوال دوبارہ کریں۔
تخریج
بیوی=۱۱
بیٹا= ۱۴
بیٹا= ۱۴
بیٹی= ۷
بیٹی= ۷
بیٹی= ۷
بیٹی= ۷
بیٹی= ۷
بیٹی= ۷
بیٹی= ۷
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :46503
تاریخ اجراء :Aug 24, 2013

PDF ڈاؤن لوڈ