1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

ایک مرد کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے ، شریعت کے حساب سے اس کے بیٹے میں کس طرح تقسیم ہوگے ؟

سوال

(۱) ایک عورت کی ملکیت میں 86000/ ہزار روپئے آئے ہیں ، اس عورت کا انتقال ہوگیا ہے، اس کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے ، شریعت کے حساب سے اس کے بچوں میں کس طرح تقسیم ہوگے؟ وضاحت کے ساتھ بتائیں۔
(۲) ایک مرد کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے ، شریعت کے حساب سے اس کے بیٹے میں کس طرح تقسیم ہوگے ؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(م): 166=166-2/1433
اس متوفیہ عورت کی پوری ملکیت (روپئے، سامان وغیرہ) کل سات حصوں میں منقسم ہوگی، دو دو حصے تینوں لڑکوں میں سے ہرایک کو اور ایک حصہ لڑکی کو مل جائے گا، بشرطیکہ مرحومہ کے ورثہ میں صرف تین بیٹے اور ایک بیٹی ہوں ان کے علاوہ اور کوئی شرعی وارث نہ ہو۔ (۲) اس کا حساب بھی مذکورہ طریقے پر ہوگا، اگر مسئلہ وراثت سے متعلق ہو اور اگر مرد (باپ) حیات ہیں اور وہ زندگی میں ملکیت تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو یہ ہبہ اور عطیہ کہلائے گا اس کا افضل طریقہ ہے کہ بیٹے بیٹی میں سے ہرایک کو برابر حصہ دیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :36133
تاریخ اجراء :Mar 18, 2017

PDF ڈاؤن لوڈ