1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

(۱)میرا سوال یہ ہے کہ والد صاحب کے انتقال کے بعد ایک مکان کو کس طرح دو لڑکے ، دو لڑکی اور ایک ماں کے بیچ میں تقسیم کریں گے؟ ہر ایک کو کتنے کتنے حصے ملیں گے؟ (۲)ایک بندہ قرآن کو کسی کسی جگہ غلط پڑھتا ہے کیوں کہ بچپن میں اس

سوال

(۱)میرا سوال یہ ہے کہ والد صاحب کے انتقال کے بعد ایک مکان کو کس طرح دو لڑکے ، دو لڑکی اور ایک ماں کے بیچ میں تقسیم کریں گے؟ ہر ایک کو کتنے کتنے حصے ملیں گے؟ (۲)ایک بندہ قرآن کو کسی کسی جگہ غلط پڑھتا ہے کیوں کہ بچپن میں اس کی بنیادٹھیک نہیں رہی، مخارج کی غلطی کی وجہ سے جیسے ض کی جگہ د پڑھنا، اس کو اس حال میں قرآن پڑھنا درست ہے یا ان غلطیوں کو پہلے درست کرکے پھر قرآن کوپڑھنا شروع کرے؟ اس بندے کی عمر 74سال ہوگئی ہے کیا اس عمر میں یہ غلطیاں درست ہوسکتی ہیں؟ میں اس فکر میں ہوں کیا ان کو کچھ نہ کہوں اور ویسے ہی قرآن پڑھتے رہیں یا ان کی غلطیوں کو درست کرنے کی کوشش کروں ان کی اس ضعیف عمر میں؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 376=258/ل
 
( ۱) صورت مسئولہ میں مرحوم کی زوجہ کو آٹھواں حصہ دے کر مابقیہ کو چھ حصوں میں تقسیم کرکے دو دو، حصے دونوں لڑکوں میں سے ہرایک کو اورایک، ایک حصہ دونوں لڑکیوں میں سے ہرایک کو دیے جائیں گے اور حقوق مقدمہ علی المیراث اول ادا کیے جائیں گے واضح رہے کہ یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ مرحوم کے والدین میں سے کوئی حیات نہ رہا ہو۔
( ۲) آپ ان کی غلطیوں کی اصلاح کی کوشش کریں، اگر ان بزرگ سے کوشش کرنے کے باوجود پوری اصلاح نہ ہوسکے تو اللہ کی ذات سے امید ہے کہ ان کے کوشش کرنے کی وجہ سے انھیں دہرا اجر عطا فرمائیں گے، حدیث شریف میں ہے: والذي یقرأ القرآن ویتتعتع فیہ وھو علیہ شاق لہ أجران (ترجمہ) جو شخص قرآن شریف کو اٹکتا ہوا پڑھتا ہے ا س میں دقت اٹھاتا ہے اس کو دہرا اجر ہے (رواہ البخاری وغیرہ)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :10104


PDF ڈاؤن لوڈ