1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

میرا سوال ہبہ کے تعلق سے ہے۔ کیا شریعت نے خود کی اولاد کواپنی زندگی ہی میں حصہ کی اجازت دی ہے، جب کہ ایک شخص کی جملہ دس اولادیں ہیں، چھ لڑکیاں اور چار لڑکے۔ یہ دس بچے دو بیویوں سے ہیں۔ پہلی بیوی سے آٹھ بچے ہیں جن میں چھ لڑ

سوال

میرا سوال ہبہ کے تعلق سے ہے۔ کیا شریعت نے خود کی اولاد کواپنی زندگی ہی میں حصہ کی اجازت دی ہے، جب کہ ایک شخص کی جملہ دس اولادیں ہیں، چھ لڑکیاں اور چار لڑکے۔ یہ دس بچے دو بیویوں سے ہیں۔ پہلی بیوی سے آٹھ بچے ہیں جن میں چھ لڑکیاں اور دو لڑکے شامل ہیں جب کہ دوسری بیوی سے دو لڑکے ہیں۔ پہلی بیوی کے بچے دوسری بیوی کے بچوں سے املاک کی تقسیم کے تعلق سے بہت ہی ناروا سلوک کرتے ہے۔ اس شخص کے انتقال کو سولہ سال ہوچکے ہیں ،لیکن ابھی تک جائیداد کی تقسیم نہیں ہوئی۔ پہلی بیوی جس کا انتقال ابھی تین سال پہلے ہوا اور یہ بیوی ایک طرح سے مختار کل تھی اوراس کی مرضی کی وجہ سے ہی جائیداد کی تقسیم نہیں ہوسکی۔ جملہ جائیداد میں دو فلیٹ اور کاروبار ہیں۔ پہلی بیوی کے دو لڑکوں میں سے چھوٹے لڑکے کو ہبہ کے ذریعہ ایک فلیٹ اور کاروبار دئے جانے کی بات کی جاتی ہے او رقانونی اعتبار سے ایک فلیٹ اورکاروبار پہلی بیوی کے چھوٹے لڑکے نے اپنے نام کرلیا ہے اوراس کام کو بھی بہت عرصہ گزر چکا ہے۔ چھوٹا بیٹا کاروبار میں سے اپنی خود کی ماں کو باپ کے انتقال کے بعد اخراجات کے لیے اچھی رقم دے دیا کرتا تھا اوردوسری بیوی کے ایک لڑکے کو ایک وقت تک قلیل رقم ہر مہینہ دیتا تھا۔ لیکن جب سے اس نے خود کے لڑکے کی شادی کی اس وقت سے اس نے اپنے چھوٹے بھائی کوجو کہ اپنی ماں کے ساتھ الگ رہتا تھا ایک طرح سے رقم دینا بند کردیا۔ میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا کوئی شخص اپنے دس بچوں کی موجودگی میں کسی ایک بچے کو ہبہ کے ذریعہ جائیداد کا اچھا خاصا حصہ دے سکتا ہے؟ کیا شریعت نے اسے ایسا کرنے کی اجازت دی ہے؟ ہبہ کے ذریعہ جس کو پہلی بیوی کے چھوٹے بیٹے کے نام کرنے کی جو بات کی جاتی ہے وہ اصل جائیداد کا بڑا حصہ ہے۔ برائے مہربانی ہبہ کے بارے میں شریعت کے احکام اسسوال کی روشنی میں تفصیلی طور پر بتائیں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 700=659/ ل
 
زندگی میں آدمی اپنے مال کا مالک ہوتاہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرسکتا ہے، اگر چاہے تو اپنی اولاد کو بھی ہبہ کرسکتا ہے، البتہ کسی ایک لڑکے کو ہبہ کرنا اور دیگر اولاد کو محروم کرنا شرعاً ظلم ہے، ایسا کرنے والا گنہ گار ہوگا، واضح رہے کہ ہبہ صرف زبان سے کہہ دینے سے مکمل نہیں ہوتا بلکہ جب تک (ہبہ کرنے والا) ہبہ کی ہوئی چیز کو موہوب لہ (جس کو ہبہ کیا جائے) کے حوالے کرکے اپنا حق تصرف اس سے ساقط نہیں کرلیتا ہے، اس وقت تک ہبہ تام نہیں ہوتا اور ہبہ کی ہوئی چیز موہوب لہ کے ملک میں نہیں آتی ہے اور نہ ہی اس کے لیے اس میں تصرف کا حق ہوتا ہے، اس لیے صورت مسئولہ میں محض ہبہ کی بات کی جانے کی وجہ سے ہبہ کا حکم نہیں لگایا جاسکتا جب تک شرعی ثبوت کے ذریعے ہبہ کا تحقق نہ ہو جائے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :7142
تاریخ اجراء :Aug 11, 2008

PDF ڈاؤن لوڈ