1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. حدود و قصاص

اگر کوئی شخص کسی کا خون کر دے اور ان کے گھر والوں سے مل کر صلح کر لے اور كچھ معاوضہ لے دے كر معاملہ رفع دفع كرلے تو كیا درست ہے؟

سوال

اگر کوئی شخص کسی کا خون کر دے اور ان کے گھر والوں سے مل کر صلح کر لے اور ان کو قصاص دے دے تو جائز ہو گا؟یا پھر یہ کام اسلامی حکومت کا ہے اور جائز ہوگا تو قصاص کی رقم کیسے مقرر کی جائے گی غیراسلامی ریاست اگراس پر کوئی جرمانہ ڈالے تو کیا وہ قصاص میں مانا جا سکتا ہے ؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa : 144-92/B=2/1440
مذہب اسلام میں تو قتل کی سزا قتل ہی ہے جس کو قصاص کہتے ہیں۔ لیکن اگر مقتول کے ورثہ قتل کی سزا سے ہٹ کر خون بہا یعنی دیت پر راضی ہو جائیں یعنی دیت میں ایک ہزار دینار (اشرفی) یا دس ہزار درہم پر راضی ہو جائیں تو اس کی بھی گنجائش ہے اس سے قتل کی سزا معاف ہو جائے گی، اور دیت دینا واجب ہوگا۔ مگر یہ سارے امور اسلامی حکومت اور شرعی قاضی سے متعلق ہیں۔ ہم عام آدمیوں کو اس کے اختیارات حاصل نہیں۔ غیر اسلامی حکومت میں کسی نے اپنے نجی طور پر معاملہ کرلیا اور کچھ معاوضہ لے دے کر معاملہ کو رفع دفع کرلیا تو اس کی گنجائش ہے مقتول کے ورثہ کی کفالت میں شرعی حصص کے تناسب سے وہ رقم خرچ کی جاسکتی ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :165634
تاریخ اجراء :Oct 25, 2018

PDF ڈاؤن لوڈ