1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. حدود و قصاص

خون کے بدلے خون کا کیا مطلب ہے؟

سوال

لوگوں سے سنا ہے کہ اسلام میں خون کے بدلے خون ہے، کیا یہ بات صحیح ہے؟ اور اگر صحیح ہے تو اس کا کیا مطلب ہے؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:1111-921/B=11/1439
جب کوئی شخص کسی کو بے قصور قصداً قتل کردے تو اگر اسلامی حکومت ہو تو اسلامی قانون کے مطابق اسلامی حکومت والے اس کے بدلہ میں اس قاتل کو بھی جان سے مارڈالیں گے، خون کے بدلہ میں خون کا یہی مطلب ہے، کسی عام آدمی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اپنے مقتول کا بدلہ ذاتی طور پر یعنی اس کے بدل میں قاتل کو قتل کردے، سزا دینے کا حق صرف اہل حکومت کوہو تا ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :163190
تاریخ اجراء :Jul 18, 2018

PDF ڈاؤن لوڈ