1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. حدود و قصاص

گستاخ رسول اگر معافی مانگ لے

سوال

حضرت مفتی صاحب! میں انڈیا سے ہوں۔ اگر کوئی مرد یا عورت کچھ برا بولتا ہے یا بولتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یا گستاخی کرتے ہیں، اگر سچے دل سے اس نے توبہ کر لیا اور معافی مانگ لی تو کیا معافی مل جائے گی یا حد اور سزا اس پر لاگو ہوگی؟ کیا غیر مسلم ملک میں حد یا سزا لاگو ہوگی؟ جزاک اللہ

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:259-279/L=3/1439
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا اگرصدق دل سے توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول ہوجائے گی۔وحاصلہ أنہ نقل الاجماع علی کفرالساب ،ثم نقل عن مالک ومن ذکرہ بعدہ أنہ لا تقبل توبتہ ،فعلم أن المراد من نقل الاجماع علی قتلہ قبل التوبة ․ثم قال:وبمثلہ قال أبو حنیفة وأصحابہ الی قولہ فہذا صریح کلام القاضی عیاض فی الشفاء والسبکی وابن تیمیة وأئمة مذہبہ ،علی أن مذہب الحنفیة قبول التوبة بلاحکایة قول آخر عنہم، وانما حکوالخلاف في بقیة المذاہب وکفی بہولآء حجة لولم یوجدالنقل کذلک في کتب مذہبنا․(شامی:۶/۳۷۱،۳۷۲) (۲) حدودوقصاص کے نفاذ کے لیے اسلامی مملکت کا ہونا ضروری ہے ،غیرمسلم ممالک میں اس کا نفاذ نہ ہوگا۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :156315
تاریخ اجراء :Dec 14, 2017

PDF ڈاؤن لوڈ