1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. حدود و قصاص

شریعت میں فلم دیکھنے کی سزا کیا ہے؟

سوال

حضرت مفتی صاحب! شریعت میں فلم دیکھنے کی سزا کیا ہے؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 1014-950/sd=10/1438
شریعت کی رو سے فلم لہو و لعب میں داخل ہے ، جس کی حرمت حدیث میں مذکور ہے ،نیز فلم دیکھنے میں ناچ گانے ، عریاں عورتوں کی تصویراور فواحش و محرمات کا ارتکاب کرنا پڑتا ہے ، جس پر شریعت میں سخت وعید وارد ہوئی ہے ،ایک حدیث میں ہے کہ گانا سننا نفاق کا سبب ہے ، ایک دوسری حدیث میں بدنظری کرنے والے پر لعنت وارد ہوئی ہے ۔
أما التلفزیون والفدیو، فلا شک فی حرمة استعمالہا بالنظر إلی ما یشتملان علیہ من المنکرات الکثیرة: من الخلاعة والمجون، والکشف عن النساء المتبرجات أو العاریات، وما إلی ذٰلک من أسباب الفسوق۔ (تکملة فتح الملہم، کتاب اللباس والزینة / باب تحریم تصویر صورة الحیوان ۴/۱۶۴مکتبة دار العلوم) ۔ وکرہ کل لہو، لقولہ علیہ الصلاة والسلام: “کل لہو المسلم حرام إلا ثلاثة”۔ (الدر المختار) قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللّٰہ تعالیٰ: (قولہ: وکرہ کل لہو): أی کل لعب وعبث، فالثلاثة بمعنی واحد کما فی شرح التاویلات، والإطلاق شامل لنفس الفعل، واستماعہ کالرقص والسحریة والتصفیق وضرب الأوتار من الطنبور والبربط والرباب والقانون والمزمار والصنج والبوق، فإنہا کلہا مکروہة؛ لأنہا زی الکفار، واستماع ضرب الدف والمزمار وغیر ذٰلک حرام”۔ (الدر المختار، کتاب الحظر والإباحة / فصل فی البیع :۵۶۶/۹) عن جابر رضی اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: الغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء الزرع۔ رواہ البیہقی فی شعب الإیمان (مشکاة المصابیح، کتاب الآداب / باب البیان والشعر، الفصل الثالث ۴۱۱)عن الحسن مرسلاً قال: بلغنی أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: لعن اللّٰہ الناظر والمنظور إلیہ۔ رواہ البیہقی فی شعب الإیمان (مشکاة المصابیح / باب النظر إلی المخطوبة، الفصل الثالث )
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :152555
تاریخ اجراء :Jul 19, 2017

PDF ڈاؤن لوڈ