1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. حدود و قصاص

کیا لواطت کرنے والے کو قتل کرنا جائز ہے ؟

سوال

ایک بڑے بچے نے چھوٹے بچے کے ساتھ بدفعلی کی تو اب اس بڑے بچے کو قتل کرنا جائز ہے ؟ ہمارے ہاں ایک آدمی نے بچے کو قتل کر دیا ہے اور کہہ رہا ہے کہ میں نے شریعت کے مطابق کیا ہے ؟اور کہہ رہا ہے کہ میری غیرت کا مسئلہ ہے ۔ شریعت میں اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 1068-1058/N=11/1438
احناف کے نزدیک صحیح ومفتی بہ قول کے مطابق بد فعلی میں زنا کی سزا نہیں ہے؛ لہٰذا اسلامی حکومت میں بھی امام المسلمین کی جانب سے بد فعلی کے مرتکب کو سنگسار نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ۱۰۰/ کوڑے لگائے جاسکتے ہیں؛ البتہ اسلامی حکومت میں امام المسلمین کی جانب سے شرعی ثبوت کے بعد بہ طور تعزیر معقول سزا دی جائے گی۔ اور اگر کوئی شخص بد فعلی کا عادی ہو تو امام المسلمین یا اس کا نائب سیاستاً قتل بھی کرسکتا ہے، لیکن کوئی دوسرا شخص ہرگز قتل نہیں کرسکتا ، نیز جس ملک میں اسلامی احکام نافذ نہ ہوں یا جہاں اسلامی احکام نافذ ہوں، وہاں کوئی عام آدمی بد فعلی کے مرتکب کو نہ قتل کرسکتا ہے اور نہ ہی زنا کی سزا دے سکتا ہے ؛ اس لیے صورت مسئولہ میں آپ کے یہاں کسی شخص نے بد فعلی کے مرتکب (عاقل وبالغ)بچے کو قتل کرکے ناجائز کام کیا، اسے شرعاً اس کا حق واختیار نہیں تھا ۔
ولا یحد بوطء دبر،…… ولو اعتاد اللواطة قتلہ الإمام سیاسة (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الحدود، باب الوطء الذي یوجب الحد والذي لا یوجبہ، ۶: ۳۸، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، أو عمل عمل قوم لوط، …… فلا حد علیہ عند أبي حنیفةرحمہ اللہ  ویعزر وزاد فی الجامع: ویودع فی السجن، ……قال جمال الإسلام في شرحہ: الصحیح قول أبي حنیفةرحمہ اللہ،  وعلیہ مشی المحبوبي والنسفي وغیرھما (التصحیح والترجیح علی مختصر القدوري للعلامة قاسم بن قطلوبغارحمہ اللہ ، ص ۴۰۰، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :152448
تاریخ اجراء :Jul 27, 2017

PDF ڈاؤن لوڈ