1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. حدود و قصاص

زخم لگانے والے پر مالی جرمانہ لگانا

سوال

سوال: لوگوں کے درمیان لڑائی جھگڑا ہوتا ہے تو ہماری برادری کے بڑے لوگ بیٹھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔ ایک آدمی کسی کو لوہے کا ہتھوڑا پیٹھ پر مارتا ہے جس سے زخم ہوتا ہے اس زخم پر کچھ ٹانکے لگتے ہیں تو اب برادری والے فیصلہ میں ان پر دو یا تین لاکھ روپے جرمانہ لگا سکتے ہیں تاکہ وہ بھی آئندہ ایسی حرکت نہ کریں اور دوسروں کو بھی سبق مل جائے ۔ ایسے ہی ایک آدمی نے دوسرے کی ران پر گولی ماری جو آر پار نکل گئی اس پر مالی جرمانہ لگانا جائز ہے کہ نہیں؟ اگر جائز ہے پھر تو ٹھیک ہے ایسا ہی کرتے ہیں۔ اگر جائز نہیں تو پھر اس طرح مالی جرمانہ کا فیصلہ کرنے والے پر گناہ ہے یا نہیں؟ اور ناجائز کی صورت میں جنہوں نے مالی جرمانہ لیا ہے وہ پیسہ حلال ہے یا حرام؟ ان کو واپس کرنا لازم ہے یا نہیں؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 468-1419/H=1/1439
یہ مالی جرمانہ نہیں بلکہ جنایت کے قبیل سے ہے اور منجانب شرع جنایات کے اعتبار سے جزاء بھی مختلف ہے اس لیے برادری کے لوگوں کے طے کرنے کے بجائے مقامی یا قریبی علمائے کرام اصحابِ فتوی حضرات سے تحقیق کرکے رقم لازم کیا کریں کسی معاملہ کے پیش آنے پر جو رقم لازم کی گئی اس کے متعلق بھی مقامی مفتیان حضرات سے ہی حکم شرعی معلوم کرکے عمل کریں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :148082
تاریخ اجراء :Oct 10, 2017

PDF ڈاؤن لوڈ