1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. حدود و قصاص

قتل كے بعد بخشش ہوجائے گی كیا؟

سوال

کوئی مسلمان کسی مسلم بھائی کا قتل کرتا ہے تو کیا اس کی بخشش ہو جائے گی؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 071-048/B=2/1438
قرآن پاک میں آیا ہے کہ من قتل موٴمنا متعمدا فجزاء ہ جہنم خالداً فیہا یعنی جس شخص نے کسی مسلمان کو قصداً جان بوجھ کر قتل کردیا تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اسی میں ہمیشہ رہے گا۔ مفسرین نے اس کا معنی مکث طویل بتایا ہے یعنی زیادہ دنوں جہنم میں رہے گا، رہا اس کی بخشش کا مسئلہ تو اگر قاتل نے خون بہا پورا ادا کردیا ہے او رمقتول کے ورثہ نے معاف کردیا ہے تو اس کا قصور معاف ہو جائے گا، آ ئندہ سچی پکی توبہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کردے گا، کافروں اور مشرکوں کی طرح ہمیشہ ہمیش جہنم میں نہیں رہے گا۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :145810
تاریخ اجراء :Nov 17, 2016

PDF ڈاؤن لوڈ