1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. حدود و قصاص

فتاوی عالمگیری كی عبارت پر ایک اشكال

سوال

محترم فتاوی عالمگیری پر ایک اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس میں ایک مسئلہ لکھا ہے کہ اگر چور سامان چوری کر کے باہر رکھ دے اور اسکا دوست آکر سامان اٹھا کرلیجائے تو دونوں پر حد نہیں لگے گی، اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اس طرح تو پھر چور موجیں لوٹیں گے ، اور اکثر و بیشتر چوریاں ہوتی ہی ایسے ہیں۔ برائے مہربانی شرعی جواب عنایت فرمائیں۔

جواب


بسم الله الرحمن الرحيم Fatwa ID: 705-803/SN=9/1437
فتاوی عالم گیری کے جس مسئلہ کا آپ نے حوالہ دیا غالباً وہ یہ ہے: ولو رمی إلی صاحب لہ خارج الحرز فأخذہ المرمي إلیہ فلا قطع علی واحد منہا (الہندیة: ۲/۱۸۰، ط: زکریا) یعنی اگر چور کسی کے گھر میں گھسا؛ لیکن اس نے گھر سے سامان لے کر خود باہر نہیں نکلا؛ بلکہ اندر سے باہر پھینک دیا (ہاتھ سے کسی کو نہیں پکڑایا) پھر باہر سے اس کے کسی ساتھی (یاکسی اور) نے اٹھا لیا، تو اِس صورت میں ان دونوں میں سے کسی کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔ اگر آپ کی مراد یہی مسئلہ ہے تو اس میں اشکال کی کوئی بات نہیں ہے؛ اس لئے کہ اس صورت میں ”حد“ نہ جاری ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں ان دونوں میں سے کسی سے مکمل جنایت (چوری) کا صدور نہیں ہوا جب کہ ہاتھ کاٹے جانے یعنی اجرائے حد کے لئے جنایتِ کاملہ کا صدور ضروری ہے۔ اندر والے شخص کی طرف سے کامل جنایت؛ اس لیے نہیں پائی گئی کہ اس نے محفوظ جگہ سے سامان باہر لے کر نہیں نکلا جب کہ ”چوری“ بالمعنی الشرعی کے تحقق لیے محفوظ جگہ سے سامان خود لے کر باہر نکلنا ضروری ہے۔ اور باہر والے شخص کی طرف سے کامل جنایت؛ اس لئے نہیں پائی گئی کہ اس نے خود سامان باہر نکالا ہی نہیں، چنانچہ بدائع الصنائع میں اس عبارت کے بعد ”حد“ جاری نہ ہونے کی وجہ بھی لکھی ہوئی ہے: ولو رمی إلی صاحب لہ خارج الحرز فأخذہ المرمي إلیہ فلا قطع علی واحد منہما، أما الخارج فلأنہ لم یوجد منہ الأخذ من الحرز، وأما الداخل فلأنہ لم یوجد منہ الإخراج من الحرز لثبوت ید الخارج علیہ (بدائع الصنائع: ۶/۶، ط: زکریا) ۔
نوٹ: یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ حدیث میں ہے ”ادرأو الحدود عن المسلمین ما استطعتم“ (السنن الکبری للبیہقی) یعنی جتنا ہوسکے حدود کو مسلمانوں سے دفع کرو؛ اس لیے ادنی شبہ کی بنا پر بھی حد کا حکم ساقط ہو جاتا ہے؛ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس طرح کی حرکت کرنے والوں کو یونہی چھوڑ دیا جائے گا؛ بلکہ حاکمِ وقت حسبِ صوابدید ان پر تعزیر (مثلا ضرب و حبس) کر سکتا ہے؛ لہذا اس حکمِ شرعی سے آپ کا یہ نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہے کہ پھر تو چور موجیں لوٹیں گے؛ کیونکہ اگر کامل جنایت نہ بھی ہو پھر بھی پکڑے جانے پر انہیں تعزیر کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جیسا کہ اوپر گزرا۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :64455
تاریخ اجراء :Jun 26, 2016

PDF ڈاؤن لوڈ