نشیلی اشیاء كا استعمال اور اس پر تعزیر

سوال کا متن:

افیم ہیروئن وغیرہ کی کاشتکاری وکاروبار میں حکومت بعض مرتبہ موت کی سزا دیتی ہے، اس کا کیا حکم ہے؟
شراب ونشہ آور اشیاء کے استعمال پر آدمی اگر فروغ کا ذریعہ بنے تو اس کو تعزیرا فی زماننا موت کی سزا دی جاسکتی ہے یا نہیں؟ احادیث کی روشنی میں کیا رہنمائی ملتی ہے۔ للہ اس طرح جواب نہ دیں کہ حدیث نظر سے نہیں گذری۔

جواب کا متن:


بسم الله الرحمن الرحيم فتوی(ل): 1892=1337-1/1433
ہرملک کے نظام چلانے کے واسطے کچھ قوانین وضوابط ہوتے ہیں جن کی پاسداری اس ملک کے عوام پر ضروری ہوتی ہے، اگر یہ قانون شریعت سے متصادم نہ ہو تو اس کا لحاظ کرنا مسلمانوں پر ضروری ہوتا ہے، لأن المسلمین علی شروطہم، بہت سے مسائل میں علماء نے بھی صراحت کی ہے کہ حاکم کو سیاستاً اس جرم میں بطور تعزیر قتل کرنے کا بھی اختیار ہے، تفصیل کے لیے آپ کتاب الحدود کا مطالعہ کریں۔ اس لیے اگر کسی ملک میں افیون ہیروئن یا دیگر نشہ آور چیزوں کی کاشتکاری یا اس کے فروغ کا ذریعہ بننے پر پابندی ہو تو مسلمانوں کو بھی اس کی رعایت کرنی چاہیے، کیوں کہ یہ ایسا قانون نہیں ہے جس پر عمل کرنے سے شریعت کی خلاف ورزی لازم آتی ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :35586
تاریخ اجراء :Dec 3, 2011