1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. سود و انشورنس

پانچویں بار اے ٹی ایم استعمال كرنے پر بینك جو پیسہ كاٹتا ہے كیا میں اسے سود میں سے گھٹا سكتا ہوں؟

سوال

بینک میں میرا اکاؤنٹ ہے اور جب بھی میں مہینے میں پانچویں بار پیسہ نکالتا ہوں تو بینک اس میں سے کچھ رقم کاٹ لیتا ہے تو مسئلہ یہ ہے یہ پیسہ میں بینک کے سود میں سے گھٹا سکتا ہوں یا نہیں بینک کی طرف سے جو چھ ماہ میں سودآتے ہیں اس میں سے ۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:599-514 /sn=7/1440
 بینک جو رقم کاٹ لیتا ہے اگر یہ اے ٹی ایم(ATM ) کارڈکے مقررہ تعداد سے زیادہ استعمال کرنے کا معاوضہ ہے جیسا کہ سوال سے اندازہ ہوتا ہے تو صورت مسئولہ میں کاٹی ہوئی رقم سود کی رقم سے وصول کرنا شرعا جائز نہیں ہے ؛ یہ تو سود کی رقم ذاتی استعما ل میں لانا ہوگا؛کیونکہ جو رقم کاٹی جارہی ہے وہ ناجائز نہیں ہے ؛ بلکہ خدمت( جو بینک فراہم کرتا ہے ) کا معاوضہ ہے ۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :169051
تاریخ اجراء :Mar 17, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ