1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. سود و انشورنس

میرے والد كو معلوم ہے كہ سود حرام ہے۔ پھر بھی لیتے ہیں‏، مجھے كیا كرنا چاہیے؟

سوال

حضرت، میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میرے ابو کے پاس پیسہ ہے اور وہ کمپنی میں کام کرتے ہیں اور انہیں معلوم بھی ہے کہ سود لینا حرام ہے پھر بھی وہ سود لیتے ہیں بینک میں پیسہ فکس کرتے ہیں تو میں نے ان کو اور امی کو کہا بھی ہے کہ یہ سب حرام ہے تب بھی نہیں سنتے۔
حضرت! میں ابھی پڑھتا ہوں تو میں کیسے کیا کروں؟ ان کے پیسے سے میں کھاتا ہوں، اب میں کیا کروں ان کے پیسہ سے کھاوٴں یا کیا کروں؟ ابھی میری اِنکم کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔
براہ کرم میری رہنمائی فرمائیں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 1176-1208/sd=12/1438
اگر آپ کے والد صاحب کی ملازمت جائز ہے ، تو آپ پریشان نہ ہوں،جائز ملازمت سے حاصل شدہ آمدنی میں سے وہ آپ پر جو صرف کریں گے ، اُس کو حلال آمدنی ہی کی رقم سمجھا جائے گا، خواہ کمپنی کے علاوہ اُن کی کچھ کمائی حرام بھی ہو، ہاں والد صاحب نے اگر کمائی کا کوئی حرا م ذریعہ بھی اختیار کر رکھا ہے ، تو اُس کو ترک کردینا چاہیے ، حرام آمدنی سے برکت ختم ہوجاتی ہے ۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :153315
تاریخ اجراء :Aug 26, 2017

PDF ڈاؤن لوڈ