1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. سود و انشورنس

یہاں الراجحی بینک ہے ، یہ اسلامک بینکنگ کے ذریعے قرض فراہم کرتی ہے ۔ اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ جیسے اگر ہمیں ۷۵۰۰۰ قرض چا ہئے تو بینک مجھے ۸۱۰۰۰ کے شییئرز دے گی، پھر اگر میں چاہوں تو ان شیئرز کو خود اپنے حساب سے اپنی ق

سوال

حضرت مفتی صاحب، عاجز سعودی عربیہ میں رہتا ہے ۔ یہاں الراجحی بینک ہے ، یہ اسلامک بینکنگ کے ذریعے قرض فراہم کرتی ہے ۔ اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ جیسے اگر ہمیں ۷۵۰۰۰ قرض چا ہئے تو بینک مجھے ۸۱۰۰۰ کے شییئرز دے گی، پھر اگر میں چاہوں تو ان شیئرز کو خود اپنے حساب سے اپنی قیمت پر خود بیچوں یا پھر بینک اسے ۷۵۰۰۰ میں خرید لے گی۔ مجھے نقد رقم ملے گی اور بینک کو منا فع ہوگا۔ بعد میں بینک ۲ سال تک قسطوں میں ۸۱۰۰۰ تنخواہ سے ۳۳۷۵ہر ماہ وصول کرلیگی ۔ کہتے ہیں کہ یہ مرابحہ ہے ۔ کیا اس طریقے سے قرض لے سکتے ہیں۔ رہنمائی فرمائیں۔

جواب


بسم الله الرحمن الرحيم Fatwa ID: 780-836/L=7/1436-U
اگر بینک سے شیئرز لے کر خود مارکیٹ میں فروخت کریں اور بینک کو ۸۱/ ہزار قسط وار جمع کردیں تو یہ صورت بلاکراہت درست ہے، یہ دحقیقت بیع کی صورت ہے، اور اگر آپ بینک کے جس کاوٴنٹر سے شریرز خریدتے ہیں اور شیئرز کی قیمت ادا کرنے سے پہلے پہلے دوبارہ آپ خریدے ہوئے شیئرز کو اسی کاوٴنٹر پر کم قیمت میں فروخت کردیتے ہیں تو یہ معاملہ شرعاً ناجائز ہے۔ ومن اشتری جاریةً بألف درہم حالة أو نیسئةً فقبضہا ثم باعہا بخمس مائة قبل أن ینقد الثمن لا یجوز البیع الثاني (ہدایہ: ۳/۵۷)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :58370
تاریخ اجراء :May 2, 2015

PDF ڈاؤن لوڈ