1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. سود و انشورنس

میں ایک سوفٹ ویئر کمپنی میں کام کرتا ہوں۔ ہر سال کمپنی کچھ رقم (تقریباً 3500روپے)میری تنخواہ سے ہیلتھ انشورنس کے نام پر وضع کرتی ہے۔ اور میں اس پورے سال میں کسی بھی میڈیکل چیز کا دعوی کرسکتا ہوں جو کہ 3500روپے سے زیادہ ہوگ

سوال

میں ایک سوفٹ ویئر کمپنی میں کام کرتا ہوں۔ ہر سال کمپنی کچھ رقم (تقریباً 3500روپے)میری تنخواہ سے ہیلتھ انشورنس کے نام پر وضع کرتی ہے۔ اور میں اس پورے سال میں کسی بھی میڈیکل چیز کا دعوی کرسکتا ہوں جو کہ 3500روپے سے زیادہ ہوگا۔ (۱) اگر مجھے بیماری ہو تو کیا میں اس اسکیم کا فائدہ اٹھا سکتا ہوں یا کہ نہیں؟ (۲)حتی کہ جعلی بل بھی پیش کرکے میں اس کا دعوی کرسکتا ہوں کیا اسلام میں یہ جائز ہوگا؟ اگر میں اس کا دعوی نہیں کروں گا تو میرے 3500روپئے ضائع ہوجائیں گے۔ اس صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ (۳)یا کم از کم میں اس رقم کا دعوی کرسکتا ہوں اور اس کو غریبوں کودے سکتاہوں کیوں کہ میں اس رقم کو انشورنس کمپنی میں چھوڑنا نہیں چاہتاہوں؟برائے کرم جواب عنایت فرماویں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 2535=2098/ ب
  جس قدر رقم آپ کی تنخواہ میں سے ہیلتھ انشورنس کے نام پر وضع کی گئی ہے اور آپ نے اس سے کوئی طبی فائدہ نہیں اٹھایا تو آپ اپنی اس رقم کا دعویٰ کرسکتے ہیں۔ اسے لے کر آپ اپنے استعمال میں بھی لاسکتے ہیں، اور غریبوں کو بھی دے سکتے ہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :9615
تاریخ اجراء :میں ایک سوفٹ ویئر

PDF ڈاؤن لوڈ