1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. عبادات
  3. صوم (روزہ )

روزہ کی حالت میں گیم کھیلنے کا حکم

سوال

کیا میں ورزے کی حالت میں گیم کھیل سکتاہوں؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:836-696/N=10/1440
گیم ایک لایعنی چیز اور وقت کی بربادی کا ذریعہ ہے اور اللہ تعالی نے انسان کو جو زندگی عطا فرمائی ہے، اس کا ہر ہر لمحہ ایک انمول موتی سے زیادہ قیمتی ہے ، انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کے قیمتی لمحات صرف جائز ومفید کاموں میں صرف کرے، لایعنی کاموں میں ہرگز صرف نہ کرے، نیز یہ گیم اپنے اندر ایک شیطانی کشش رکھتے ہیں، جو لوگ گیم کھیلتے ہیں، وہ ان کے رسیا اور عادی ہوتے ہیں اور بہت سی مرتبہ گیم فرائض میں غفلت ولاپرواہی کا ذریعہ بھی ہوتا ہے؛ اس لیے آدمی روزے سے ہو یا روزہ سے نہ ہو، بہر صورت گیم سے پرہیز کرنا چاہیے ؛ ببلکہ روزہ کی حالت میں تو اس طرح کی فضولیات سے بہت زیادہ بچنا چاہیے ؛ تاکہ روزہ کے فوائد اور اس کی برکات پورے طور پر حاصل ہوں۔
وکرہ تحریما اللعب بالنرد وکذا الشطرنج… وھذا إذا لم ویقامر لم یداوم ولم یخل بواجب وإلا فحرام بالإجماع (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغیرہ، فصل فی البیع وغیرہ، ۹:۵۶۴،۵۶۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔
قولہ: ” الشطرنج “:معرب شدرنج، وإنما کرہ لأن من اشتغل بہ ذھب عناوٴہ الدنیوي وجاء ہ العناء الأخروي، فھو حرام وکبیرة عندنا، وفي إباحتہ إعانة الشیطان علی الإسلام والمسلمین کما فی الکافي، قھستاني (رد المحتار)۔
أجمع المسلمون علی أن اللعب بالشطرنج حرام إذا کان بعوض أو تضمن ترک واجب مثل تأخیر الصلاة عن وقتھا،وکذلک إذا تضمن کذبا أو ضررا أو غیر ذلک من المحرمات(الموسوعة الفقہیة، ۳۷:۲۷۱)۔
وذھب الحنفیة إلی رد شھادة لاعب الشطرنج بواحد مما یلي:إذا کان عن قمار أو فوت الصلاة بسببہ أو أکثر من الحلف علیہ أو اللعب بہ علی الطریق أو ذکر علیہ فسقا (المصدر السابق، ۳۵:۲۷۲)۔
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
ہمارے مذہب میں شطرنج کھیلنا کسی غرض سے جائز نہیں ہے؛ بلکہ مکروہ تحریمی ہے، جو کہ مثل حرام کے ہے، اور کھیلنے والے کو توبہ کرنا لازم ہے الخ( فتاوی دار العلوم دیوبند، ۱۶:۲۹۲، جواب سوال: ۵۷۱، مطبوعہ: مکتبہ دار العلوم دیوبند)۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :171144
تاریخ اجراء :Jun 22, 2019

فتوی پرنٹ