1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. عبادات
  3. صوم (روزہ )

کیا کسی شخص کی رمضان کے اعتکاف کے لیے مسجد رشید کی تشکیل کرنا درست ہے ؟

سوال

کیا کسی شخص کی رمضان کے اعتکاف کے لیے مسجد رشید کی تشکیل کرنا درست ہے اور یہ بات اس حدیث کے خلاف تو نہیں ہے جس میں آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص تین مساجد کے علاوہ کسی مسجد کی طرف سفر نہ کرے برائے مہربانی مدلل جواب مرحمت فرمائیں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:1108-1018/L=10/1440
عام حالات میں ایسی مسجد میں اعتکاف کرنا افضل ہے،جہاں جمعہ کی نماز ہوتی ہو؛تاکہ جمعہ پڑھنے کے لیے مسجد سے باہر نہ جانا پڑے ،اور یہ مسجدِ محلہ اوراپنے شہر میں ہوتوبہتر ہے؛لیکن اگر کوئی شخص کسی مصلحت سے دوسرے محلے کی مسجد میں یاکسی دوسرے شہر میں جاکر اعتکاف کرلے تواس میں بھی شرعاً کوئی حرج نہیں ہے؛جیسا کہ آج کل مشائخ اپنے متعلقین اور متوسلین کے ساتھ اعتکاف کرتے ہیں تواس میں اعتکاف کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت بھی مقصود ہوتی ہے،اوریہ اجتماعی اعتکاف تربیت گاہ کی صورت اختیار کرلیتا ہے ،بشرطیکہ یہ عمل محض رسمی نہ ہو؛بلکہ دینی فائدے کوپیشِ نظررکھ کر کیا جائے؛جیساکہ پیغمبر علیہ الصلوةو السلام نے شبِ قدر کی تلاش میں،صحابہ کے ساتھ مسجدِ نبوی میں اجتماعی اعتکاف فرمایا تھا۔
فی حدیث أبی سعید الخدری ، قال ﷺ:مَن کان اعْتَکَفَ مَعِیْ،فلْیَعْتَکِفِ العشرَ الأواخرَالخ․(البخاری: /الاعتکاف/الاعتکاف فی العشر الأواخروالاعتکاف فی المساجد کلہا ․۲۷۱/۱رقم۲۰۲۷، والمسلم: ۳۷۰/۱رقم:۲۱۵/۱۱۶۷)۔(ملفوظاتِ فقیہ الامت ۴۶/۳، کتاب المسائل :۱۲۲/۲)
اس تفصیل سے مسجدِ رشید میں اعتکاف کا حکم بھی واضح ہوگیا کہ اگر کوئی شخص محض تربیت کے ارادے سے (رسمی طور پر نہیں)کسی جگہ سے مسجدِ رشید آکر اعتکاف کرے تو اس کی گنجائش ہوگی ۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :170999
تاریخ اجراء :Jul 7, 2019

فتوی پرنٹ