1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. عبادات
  3. صوم (روزہ )

مستقل امام (جو تراویح بھی پڑھاتے ہیں) كو رمضان میں كھانے كے نام پر رقم دینے كا حكم؟

سوال

ھمارے بستی میں ایک حافظ ھےوھ اپنے محلے کے مسجد میں امام ھے یعنی وہ اس مسجد میں پانچ وقت نماز پڑھاتےھیں مھینھ میں تنخھ لیتے ہیں لیکن کھانھ پینھ مسجد میں نہیں کرتے بلکہ اپنے گھر میں کرتے ہیں لیکن رمضان کے مہینے میں تراوی بھی پڑھاتے ھیں لیکن کھانھ نھ کھانے کی وجہ سے اس کو ھر گھر سے ایک سو دو سو پانچ سو روپیہ کرکے ھر گھر سے دیتا ہے تو اس کو لینا جائز ہے یانھیں؛ اور یہ پیسھ آخری رمضان میں دیتا ہے؛ دلیل کے ساتھ ضرور بتائیں

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:765-735/sn=9/1439
امام صاحب کو جو رقم بستی والوں کی طرف سے دی جاتی ہے اگر اس کا مقصد کھانے کا معاوضہ دینا ہی ہے تراویح میں قرآن سنانا کا عوض نہیں ہے یعنی اگر وہ کسی سال قرآن نہ سنائیں پھر بھی بستی والے امام صاحب کی یہ خدمت کریں گے تب تو مذکور فی السوال طریقے پر امام صاحب کو رقم دینے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، جائز ہے، اگر مقصد تراویح میں قرآن سنانے کا معاوضہ دینا ہے ”کھانا“ کا عنوان محض حیلہ ہے تو بستی والوں کا رقم دینا اور امام صاحب کا لینا درست نہیں ہے؛ کیونکہ ”حیلہ“ دیانات میں جوازِ واقعی کا فائدہ نہیں دیتا۔ (امداد الفتاوی: ۱/ ۴۸۴، ط: زکریا)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :159715
تاریخ اجراء :May 23, 2018

PDF ڈاؤن لوڈ