1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. عبادات
  3. صوم (روزہ )

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ مسجد میں تراویح کی بغیر ختم قرآن کی جماعت کے ہوتے ہوئے گھر میں ایک حافظ قرآن تراویح کی جماعت پڑھاویں۔ اور مسجد والے ختم قرآن سے انکار کریں کہ ہم نہیں سنا سکتے

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ مسجد میں تراویح کی بغیر ختم قرآن کی جماعت کے ہوتے ہوئے گھر میں ایک حافظ قرآن تراویح کی جماعت پڑھاویں۔ اور مسجد والے ختم قرآن سے انکار کریں کہ ہم نہیں سنا سکتے ۔ کیا ایسی حالت میں تروایح کی جماعت صحیح ہوجائیگی گھر میں یا نہیں؟

جواب


بسم الله الرحمن الرحيم Fatwa ID: 536-536/Sd=10/1436-U
مسجد والے تراویح میں پورا قرآن سننے سے کیوں انکار کررہے ہیں؟ تراویح میں ایک بار پورا قرآن سننا مسنون ہے، بلا عذر اس کا ترک کرنا صحیح نہیں ہے تاہم اس کے باوجود گھر میں تراویح کی جماعت اگر کی جائے گی، تو تراویح صحیح ہوجائے گی خواہ مسجد کی تراویح میں قرآن ختم نہ کیا جائے؛ لیکن مسجد میں تراویح پڑھنے کا جو ثواب ہے وہ نہیں ملے گا، تراویح کی نماز بھی مسجد ہی میں پڑھنا افضل ہے۔ قال ابن عابدین: قراء ة الختم في صلاة التراویح سنة وصحّحہ في الخانیة وغیرہا وعزاہ في الہدایة إلی أکثر المشائخ وفي الکافي إلی الجمہور وفي البرہان وہو المروي عن أبي حنیفة والمنقوف في الآثار، وقال الحصکفي: والجماعة فیہا سنة علی الکفایة - وکل ما شرع بجماعة فالمسجد فیہ أفضل - قال ابن عابدین: وإن صلی أحد في البیت بالجماعة لم ینالوا فضل جماعة المسجد (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۴۳۱، دار إحیاء التراث العربی)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :60526
تاریخ اجراء :Aug 10, 2015

PDF ڈاؤن لوڈ