1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. عبادات
  3. صوم (روزہ )

شوال كے روزے

سوال

میں نے کسی کتاب میں عید کے مہینے (شوال ) کے چھ روزوں کے بارے میں پڑھا تھا۔سوال یہ ہے کہ :
(۱) ان روزوں کی کیا حقیقت ہے؟
(۲) ان روزوں کو مستقل طورپر رکھنا کیسا ہے؟
(۳) ان روزوں کو کس حالت میں رکھ سکتے ہیں؟
(۴) اگر رمضان کے روزے کسی بیماری /سفر کی وجہ سے رہ گئے ہیں تو ان روزوں کی تلافی کے لیے میں نے شوال کے مہینے میں چھ روزے رکھے، ان چھ روزوں کی وجہ سے چھ شوال کے جو نفل روزے ہیں وہ بھی ادا ہوجائے گا یا ان کو الگ سے رکھنے کی ضرورت ہے؟

جواب


بسم الله الرحمن الرحيم Fatwa ID: 1147-1162/L=9/1436-U
(۱) شوال کے چھ روزوں کی فضیلت حدیث شریف میں مذکور ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”جس نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر عید کے بعد چھ روزے رکھے تو اس نے گویا پورے سال کے روزے رکھے“ (مشکاة: ۱۷۹)
(۲) درست ہے اور بہتر یہ ہے کہ تسلسل کے ساتھ روزہ رکھنے کے بجائے متفرق طور پر رکھا جائے۔
(۳) ہرحال میں رکھ سکتے ہیں سوائے عورت کے کہ وہ ماہواری کے ایام میں نہیں رکھ سکتی۔
(۴) آپ جس نیت سے روزہ رکھیں گے اسی کا اعتبار ہوگا، اگر قضا کی نیت سے روزہ رکھتے ہیں تو قضا ادا ہوں گے شوال کے نفل روزے ادا نہ ہوں گے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :59995
تاریخ اجراء :Jul 7, 2015

PDF ڈاؤن لوڈ