1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. عبادات
  3. اوقاف ، مساجد و مدارس

مدرسے کی رقم سے خریدی گئی زمین کو مسجد کے نام رجسٹر کرنا؟

سوال

کسی نظامیہ مدرسے کی رقم سے خریدی گئی زمین کو مسجد کے لیے الگ سے رجسٹر کرنا دست ہے یا نہیں؟

جواب


بسم الله الرحمن الرحيم Fatwa ID: 447-340/D=6/1437
نظامیہ مدرسہ کی رقم اگر اس کے اوقاف کی آمدنی ہے تو اوقاف جن مقاصد کے لیے وقف ہیں ان میں اگر تعمیر مسجد بھی شامل ہے تو نظامیہ مدرسہ کی رقم سے خریدی گئی زمین مسجد کے لیے رجسٹرڈ کی جاسکتی ہے ورنہ مدرسہ نظامیہ کی رقم کس طرح حاصل ہوئی؟ اور اس سے زمین کس مقصد کے لیے خریدی گئی اس کی وضاحت ہونا ضروری ہے۔
اگر مدرسہ نظامیہ کے چندے کی رقم ہے اور مسجد ضروریاتِ مدرسہ کے تحت بنائی جارہی ہے تو مدرسہ کی رقم سے ایسی مسجد بھی بنائی جاسکتی ہے لہٰذا یہ بات اچھی طرح واضح کرکے سوال کریں، کہ مدرسہ نظامیہ کی رقم کس طرح کی ہے؟ وقف کی یا چندہ کی؟ اس کے شرائط کیا تھے؟ پھر زمین کس مقصد کے لیے خریدی گئی وہ مقصد لائق تکمیل باقی ہے یا نہیں؟ مسجد ضروریات مدرسہ کے تحت ہے یا عام ہے؟
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :64616
تاریخ اجراء :Mar 17, 2016

PDF ڈاؤن لوڈ