1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاشرت
  3. طلاق و خلع

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ انسان اپنی بیوی کو تین طلاق دے اور چار آدمیوں کے سامنے دے، اب اس کی بیوی اس سے جدا ہوجاتی ہے۔ پانچ چھ مہینہ کے بعدبیوی واپس اس گاؤں میں آتی ہے تو گاؤں کیبڑے لوگ ان میں نارا

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ انسان اپنی بیوی کو تین طلاق دے اور چار آدمیوں کے سامنے دے، اب اس کی بیوی اس سے جدا ہوجاتی ہے۔ پانچ چھ مہینہ کے بعدبیوی واپس اس گاؤں میں آتی ہے تو گاؤں کیبڑے لوگ ان میں ناراضگی کی وجہ بنا کر ان کی صلح کرا دیتے ہیں جب کہ موقع پر موجود چار آدمیوں نے ان کو منع کیا، لیکن کوئی نہ مانا۔ اب کیا حکم ہے ان لوگوں کے بارے میں؟ برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 570=612/ ل
 
اگر مذکورہ بالا واقعہ صحیح ہے اورشوہر نے واقعتا تین طلاق اپنی بیوی کودے دی تھی تو وہ عورت اس پر حرام ہوگئی تا آنکہ حلالہ شرعی نہ ہوجائے۔ اس لیے جن لوگوں نے پانچ چھ مہینے کے بعد زوجین کے درمیان صلح کرادیا وہ سب عاصی و فاسق ہوئے ان کو چاہیے کہ فوراً توبہ و استغفار کریں اورزوجین میں تفریق کرادیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :5787
تاریخ اجراء :Jul 12, 2008

PDF ڈاؤن لوڈ